خطبات محمود (جلد 6) — Page 177
فرائض عائد ہوتے ہیں۔ان پر عمل کرتا ہے، بلکہ چاہتا ہے کہ خدا کے لیے اگر اور بھی کچھ کام ہوں تو ان کو بھی بجا لاؤں۔کوئی آدمی صرف اس پر خوش نہیں ہوگا کہ وہ محض قید سے آزاد کر دیا جائے۔بلکہ انعام یافتوں میں سے ہونا پسند کریگا۔یہ کبھی نہیں ہوگا کہ اگر کسی دانا انسان کو انعام دیا جائے تو وہ کہے کہ مجھے مہربانی کر کے یہ نہ دیجئے بلکہ وہ زیادہ سے زیادہ لینے کی کوشش کریگا۔پس ایک وصل الی اللہ کے لیے تو جس قدر اس سے ہو سکے گا کوشش کریگا۔اور صرف فرائض کے ادا کرنے پر ہی اکتفا نہیں کریگا بہاری شریعیت لعنت نہیں بلکہ رحمت ہے جو اس پر عمل کریگا وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں سے حصہ پائیں گا۔پس جو یہاں آتے ہیں۔اگر وہ اجتماع نہیں کرتے ہوجہ ادھر ادھر پھرتے رہتے ہیں تو وہ اپنے اوقات کو ضائع کرتے ہیں۔ان کو یا در رکھنا چاہتے کہ یہ میلہ نہیں ہے۔یہ جلسہ خدا تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت حضرت مسیح موعود کے ذریعہ اس لیے قائم کیا گیا ہے کہ وہ صدیوں کے زنگ جو انسانی قلوب پر چھائے ہوئے تھے دھوئے جائیں۔اور وہ جو صدیوں سے تاریکیوں اور ظلمتوں میں پڑے تھے ان کو روشنی کے بلند مینار پر پہنچا دیا جائے ہیں اس مقام پر لوگوں کو خدا تعالیٰ اس لیے جمع کرنا چاہتا ہے کہ تا ان کو پاک کرے جو شخص ان اغراض کو پورا نہیں کرتا۔اس کا ایمان خطرہ میں ہے۔آپ لوگوں کے پاس تھوڑا وقت ہے۔نہیں چاہیئے کہ اس کو آپ اچھی طرح صرف کریں اور اس سے بہت زیادہ فائدہ اُٹھائیں۔اور جو باتیں آپ کو بتائی جاتیں ان پر عمل کریں۔چونکہ ہمارا تمام دنیا سے مقابلہ ہےاور ہماری تعداد وطاقت ان کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔اس لیے نہیں بہت ہی کوشش کی ضرورت ہے۔ر وقت چوکس و ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔اگر اس وقت ہم سستی کریں اور شہستی سے کام نہ ہیں۔وران ہتھیاروں سے کام نہیں۔یا ان کو استعمال کرنا نہ سیکھیں۔جو آسمان سے ہمارے لیے نازل کئے گتے ہیں۔تو طاقتور دشمن کا کیا مقابلہ کر سکیں گے پی آپ لوگوں کا فرض ہے کہ آپ ان ہتھیاروں کا استعمال سیکھیں۔تاکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جلال ظاہر ہو در آپ کے ذریعہ وہ نور دنیا میں پھیلے، جو دراپ مدت سے دُنیا میں گم ہو چکا تھا۔اگر آپ لوگ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے وارث ہو جائیں گے۔اللہ کی رحمت ہو اس پر جو بات کو سُنے اور سمجھے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے اور اللہ کی برکتیں ہوں ان پر جو دین کے لیے کوشش کریں۔الفضل تيم ايرول اولته )