خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 14

3 د استخارہ کیا ھے فرموده ۱۸ جنوری شافت ، تشهد و تعوذ کے بعد حضور نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر فرمایا کہ: مجھے یہ بات معلوم کر کے بہت تعجب ہوا کہ کئی لوگ ایسے ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ استخارہ کیا ہوتا ہے۔حالانکہ استخارہ اسلام کے اعلیٰ رکنوں میں سے ایک رکن ہے اور اتنا بڑا رکن ہے کہ ہر ایک مسلمان کے لیے فرض کیا گیا ہے اور بغیر اس کے اس کی عبادت مکمل ہی نہیں ہوسکتی۔کہ ایک دن رات میں پانچ وقت اور ہر ایک رکعت میں ایک بار استخارہ نہ کرے۔تو یہ ایک ایسا ضروری اور لازمی رکین ہے کہ اسلام نے اس کے لیے ایک دن رات میں پانچ اوقات مقرر کئے ہیں۔اور ہر وقت میں جتنی رکعت پڑھی جاتی ہیں اتنی ہی بار استخارہ کیا جاتا ہے۔پھر سندن اور نوافل میں بھی استخارہ ہوتا ہے۔پس جب یہ ایسا ضروری اور اہم ہے تو اس سے ناواقفیت نہایت تعجب اور افسوس کا مقام ہے۔استخارہ کے کیا معنی ہیں ہے یہ کہ خدا تعالیٰ سے خیر طلب کرنا اور اللہ تعالیٰ سے یہ چاہنا کہ وہ کام جو میں کرنے لگا ہوں اس کے کرنے کا سیدھا اور محفوظ رستہ دکھایا جائے سورۃ فاتحہ جس کا ہر رکعت میں پڑھنا ضروری ہے۔اس میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اَلحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِه مَالِكِ يَوْمِ الدِينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ ب عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ پہلے اللہ تعالے کی تعریف کی جاتی ہے۔پھر تعریف کے بعد اپنی عبودیت کا اظہار ہوتا ہے اور اس کے بعد انسان اللہ تعالیٰ سے کہتا ہے کہ اسے میرے خدا جس طرح تو اپنے خاص بندوں کی راہ نمائی کیا کرتا ہے۔اسی طرح میری راہ نمائی فرما۔اور اس راہ پر چلنے سے مجھے بچا جس پر وہ لوگ چلے جو کہ ایک وقت تک تو تیرے حکم کے ماتحت رہے، لیکن پھر انھوں نے اس راہ کو