خطبات محمود (جلد 5) — Page 79
خطبات محمود جلد (5) ۷۹ اجازت دی ہے۔جتنا اس کے لئے اشد ضروری ہے۔چنانچہ دوسری جگہ قرآن کریم میں فرمایا فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (۲-۱۲۸) اور یہاں فرمایا۔فَمَنِ اضْطَرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِاثْمٍ۔دونوں جگہ مطلب ایک ہی ہے۔فرمایا جو مضطر ہو۔وہ کھالے مگر یادر ہے کہ باغی اور عادی نہ ہو۔باغی قوانین حکومت کو توڑنے والے کو کہتے ہیں۔وہ انسان جو خدا تعالیٰ کے کسی قانون کو توڑتا ہے وہ بھی باغی ہوتا ہے۔کھانے کے متعلق اس طرح باغی ہو جاتا ہے۔مثلاً ایک شخص جان بوجھ کر بھوکا رہے اور جب مضطر ہو جائے تو ان چیزوں میں سے کوئی کھا لے۔عادی اس شخص کو کہیں گے کہ جو کسی ایسے ملک میں چلا گیا جہاں اسے سور کے سوا کچھ نہیں مل سکتا۔اور بھوک کی وجہ سے مضطر ہے اس وقت اس کے لئے اس کا کھانا جائز ہے۔لیکن اگر وہ یہ کہے کہ اب مجھے موقع مل گیا ہے شاید پھر کبھی ایسا موقع ملے یا نہ ملے اس لئے خوب سیر ہو کر اور پیٹ بھر کر کھا لوں تو وہ عادی ہوگا۔پس خدا تعالیٰ نے ان اشیاء کو کھانے کی اجازت دینے کے ساتھ یہ دو شرطیں لگا دی ہیں۔بعض لوگوں کو اس اجازت کے حکم کو دیکھ کر دھو کہ لگا ہے اور انہوں نے اس کو وسیع کر لیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ جب مضطر کے لئے مردہ خون۔سور کا گوشت اور مَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللہ کھانے کی اجازت ہوگئی ہے تو اس سے سمجھ لینا چاہئیے کہ دوسرے احکام کے متعلق بھی مضطر کو اجازت ہے۔چند ہی دن ہوئے کہ ایک شخص نے مجھ سے سود کے متعلق فتویٰ پوچھا تھا میں نے اسے لکھا یا کہ سود کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہو سکتا۔اب اس کا خط آیا ہے کہ بعض علماء کہتے ہیں کہ اصل حالت میں تو یہ فتویٰ ٹھیک ہے کہ سود جائز نہیں۔لیکن مضطر کے لئے یہ فتویٰ درست نہیں ہے اور ساتھ یہ مثال دی ہے کہ ایک شخص کو شادی کرنے کے لئے روپیہ کی سخت ضرورت ہے روپے کہیں سے اسے مل نہیں سکتے۔اگر وہ سودی روپیہ لے کر شادی پر لگائے تو اس کے لئے جائز ہے۔میں نے پہلے بھی اسی قسم کے واقعات سنے تھے۔چنانچہ جو لوگ اہل قرآن کہلاتے ہیں۔انہوں نے اسی قسم کے فتوے دیئے ہیں۔لیکن اس قسم کے تمام فتوے قرآن کریم کے احکام کو نہ سمجھنے کی وجہ سے