خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 74

خطبات محمود جلد (5) ۷۴ اور چونکہ اس ملک میں امام ابو حنیفہ کے پیرو زیادہ ہیں اس لئے ایسے امور میں اپنی رائے پر ان کے فیصلہ کو ترجیح دے لو۔تا کہ فروعی باتوں کی وجہ سے جھگڑا نہ ہو ورنہ امام ابوحنیفہ کوئی نبی یا رسول یا حکم یا مامور نہ تھے کہ ضرور انہی کی بات مانی جائے جیسے میری رائے ویسی ان کی رائے ہے۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت دونوں طریق سے آمین کہی جاتی رہی ہے اور یہ بات ثابت ہے تو معلوم ہوا کہ دونوں طریق سے جائز ہے۔آپ نے اس کے متعلق فرمایا ہے بعض انسانوں کو جوش ہوتا ہے اس لئے وہ اونچی آواز سے آمین کہتے ہیں۔اور بعض کی طبیعت میں انکسار ہوتا ہے ان کو دل میں ہی کہنے سے مزا آتا ہے۔چونکہ طبائع مختلف ہوتی ہیں۔اس لئے شریعت نے دونوں طریق سے جائز رکھا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی ایسا ہی ہوتا تھا۔ایسے ہی مسائل کے متعلق جھگڑا کرنا خدا تعالیٰ کے غضب کا موجب ہوتا ہے اور انہیں کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَا تَنَازَعُوا جھگڑا نہ کرو۔وہ لوگ جو ایسے مسائل میں جھگڑا کرتے ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احتیاط کو دیکھیں۔کعبہ کے اردگرد کچھ زمین ہے جو کعبہ کی چھت میں شامل نہیں مگر حج کے موقعہ پر طواف کے وقت اس کے گرد بھی گھوما جاتا ہے۔حضرت عائشہ نے آپ سے عرض کی میں کعبہ میں نماز پڑھنا چاہتی ہوں تو آپ نے فرمایا کہ اسی جگہ پڑھ لو۔یہ بھی خانہ کعبہ کی چار دیواری کے اندر ہے۔آپ کی احتیاط دیکھو۔آپ نے فرمایا۔اے عائشہ ! اگر تیری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں کعبہ کے احاطہ کو توڑ کر اس کو اسی میں شامل کر دیتا اور دو دروازے بنا دیتا ایک سے لوگ داخل ہوتے اور دوسرے سے نکل جاتے۔اے تو باوجود اس کے کہ وہ جگہ کعبہ میں شامل تھی۔اور جب قریش نے کعبہ کا احاطہ بنانے کے لئے چندہ جمع کیا تو چندہ کے تھوڑا ہونے کی وجہ سے ساری جگہ کو احاطہ میں شامل نہ کیا جا سکا اور جو جگہ بیچ رہی اس پر نشان لگا دیئے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو شامل نہ کیا۔پھر علماء کی احتیاط دیکھو بعد میں اس پر عمارت بنا دی گئی لیکن جب بنو امیہ کی حکومت ہوئی تو اس عمارت کو گرا کر پہلی طرح ہی کر دیا بخاری کتاب التمنی