خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 73

خطبات محمود جلد (5) ۷۳ نہیں۔بلکہ دشمن اسلام ہیں۔مگر جو ایسے مسائل ہوں جن کا نہ روحانیت پر اثر پڑتا ہو اور نہ جن سے دین میں حرج واقعہ ہوتا ہو۔ایسے مسائل کو چھیڑنے والا سوئے ہوئے فتنہ کو جگاتا ہے۔ہماری جماعت میں اس قسم کا کوئی فتنہ نہ تھا۔مگر اب پھر جھگڑے شروع ہو گئے ہیں باہر سے خط آتے ہیں۔رفع یدین کرنا چاہیے یا نہیں۔آمین اونچی آواز سے کہنی چاہئیے یا دل میں۔اگر کوئی آمین اونچی آواز سے نہ کہے تو کہتے ہیں مردہ کھڑے ہیں۔حالانکہ وہ نہیں دیکھتے کہ اگر وہ مُردہ ہیں تو نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی مُردہ ہی ہوئے۔کیونکہ کان لگا کر سننے والے بھی آپ کی آمین کی آواز کو نہیں سن سکے۔پھر وہ نہیں جانتے کہ ان کے الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔آپ کے صحابہ کرام اور حضرت مسیح موعود کے صحابہ تک پہنچتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھنے والے بہت ایسے تھے جو آمین اونچی آواز سے نہیں کہتے تھے۔لیکن آپ نے کبھی ان کو کہنے کے لئے نہیں کہا اور بہت ایسے تھے جو اونچی آواز سے کہتے تھے مگر آپ نے کبھی ان کو نہیں روکا۔ہماری جماعت کے لئے تو ایسے مسائل پر جھگڑے کی کوئی وجہ ہی نہیں۔کیونکہ وہ انسان جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم عدل فرمایا۔اور جس کو خدا تعالیٰ نے یہ الہام کیا۔قُل اِن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله - اے مسیح موعود لوگوں کو کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرنی چاہتے ہو تو اس کا یہی طریق ہے کہ میری اتباع کرو۔ایسے انسان کا کوئی حکم نہ مانے گا تو اور کس کا مانے گا۔آپ نے ان سب باتوں کے متعلق فیصلہ کر دیا ہے کہ قرآن کریم میں جو صریح احکام ہیں ان کو مانو اور حدیث کے صریح احکام کو مانو۔اگر حدیث میں کوئی ایسا حکم ہے جو کسی اصول دین کے خلاف ہو تو وہ درست نہیں ہو سکتا۔اس کو قرآن شریف پر عرض کرو۔اگر قرآن کریم اس کی تصدیق کرے تو قبول کر لو اور اگر رڈ کرے تو رڈ کر دو۔پھر فروعات کے متعلق آپ کا فیصلہ ہے کہ اگر کسی بات کے متعلق ایک ہی عمل موجود ہے تو اسی طرح ٹھیک ہے اور اگر مختلف ہیں تو معلوم ہوا کہ مختلف اوقات اور مختلف حالات کے ماتحت مختلف طریق ہی رائج رہے ہیں تذکره ص ۴۶، ص ۶۱ ، ص ۷۸۔