خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 62

خطبات محمود جلد (5) ۶۲ تمام دنیا کے مقابلہ میں آٹے میں نمک اور دریا کے مقابلہ میں قطرہ بھی نہیں۔لیکن اس قلیل جماعت کا تمام دنیا سے مقابلہ ہے۔اس صورت میں خیال تو کرو۔کہ تمہیں کس قدر پستی کی ضرورت ہے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ بہت لوگ غافل ہیں۔اور اپنی دعاؤں میں اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ دنیا کی ہدایت کے لئے دعا مانگنا بھی ہمارا فرض ہے۔اور یہ بات بھی بھول جاتے ہیں کہ جو لوگ تبلیغ کے لئے کوشش کر رہے ہیں ان کو کس قدر مشکلات کا سامنا ہے اور کس قدر مدد کی ضرورت ہے۔چندہ تو بہت لوگ دیتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ تبلیغ میں کتنے کوشش کرتے ہیں۔روپیہ سے تبلیغ نہیں ہوا کرتی۔بلکہ خدا کے فضل سے ہوتی ہے۔اور اس فضل کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہر ایک احمدی خواہ مرد ہو یا عورت بچہ ہو یا بوڑھا چھوٹا ہو یا بڑا۔سب مل کر خدا تعالیٰ کے حضور دعاؤں میں لگے رہیں۔اگر تمام مل کر ایک دعا کریں تو کیونکر ممکن ہے۔کہ خدا تعالیٰ ان کی دعا کورڈ کر دے۔خدا تعالیٰ تو بہت رحیم ہے لیکن افسوس کہ بہت لوگ اس کی شان کو نہیں سمجھتے۔دیکھو بچہ جب کسی تکلیف میں ماں باپ کو پکارتا ہے۔تو ان کے دل میں رحم پیدا ہو جاتا ہے۔لیکن خدا تو انسان کے لئے ماں باپ سے بھی زیادہ پیار کرنے والا ہے اس کے حضور جب پکارا جائے تو وہ کیوں نہ رحم کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کے انسان سے پیار کو ایک مثال سے بتایا ہے۔ایک جنگ میں کچھ عورتیں قید ہو کر آئی تھیں۔ان میں سے ایک کا بچہ اس سے جدا ہو گیا۔وہ اس تلاش میں گھبرائی ہوئی ادھر ادھر پھرتی تھی اور جب کسی بچہ کو دیکھتی تو اپنے بچہ کی یاد میں اسے اٹھا کر چھاتی سے لگا لیتی۔جب اس کو اپنا بچہ مل گیا تو اسے چھاتی سے لگا کر آرام سے بیٹھ گئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح عورت کو اپنے بچہ سے محبت ہے اور جب تک وہ اسے مل نہیں گیا آرام سے نہیں بیٹھ سکی اسی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر خدا تعالیٰ کو انسان سے محبت ہے۔اے جب کوئی انسان اس سے جدا ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ کو اس سے زیادہ درد ہوتا ہے جتنا کہ ماں کو اپنے بچہ کے کھوئے جانے سے ہوتا ہے اور جب کوئی انسان اس کی طرف جھکے ا بخاری کتاب الادب باب رحمتہ الولد۔