خطبات محمود (جلد 5) — Page 620
خطبات محمود جلد (5) ۶۱۹ ایسی جماعت یا قوم سے مبعوث نہیں کرتا جو پہلے سے دنیا میں رعب۔اقتدار اور غلبہ رکھتی ہو۔بلکہ دنیاوی لحاظ سے نہایت چھوٹے درجہ اور غریب لوگوں سے ایسے انبیاء اٹھاتا ہے۔کیونکہ اگر وہ بادشاہوں کو اس کام کے لئے بچنے تو دنیا کہ سکتی ہے کہ فلاں کے رعب اور حکومت کے ذریعہ فلاں سلسلہ چلا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ ایسے لوگوں میں سے اُمت قائم کر نیوالے انبیاء کو مبعوث نہیں کرتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مخالفین اسلام کے مقابلہ میں تلوار چلانے کی ضرورت تھی۔اسوقت اگر کوئی بادشاہ نبی بنا کر بھیجا جاتا تو دنیا کہتی کہ اس نے تلوار کے زور سے اسلام پھیلایا ہے۔ورنہ در اصل اس میں کوئی خوبی اور صداقت نہیں۔لیکن اب یہ کہنے والوں کے لئے کیسا سیدھا اور صاف جواب ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیا ہے کہ مانا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔لیکن یہ تو بتاؤ کہ اسلام کی خاطر تلوار چلانے والے آئے کہاں سے تھے۔ایک اتنی بہادر قوم کہ جس نے تلوار کے ذریعہ اسلام کی اشاعت کی۔اس کے دل میں کس طرح اسلام داخل ہو گیا تھا۔اور اگر اس کے دل میں دلائل و براہین کے ذریعہ اسلام جاگزیں ہو گیا تھا تو پھر کیا وجہ ہے کہ باقی لوگ دلائل کے ذریعہ حلقہ اسلام میں داخل نہ ہو سکتے تھے۔پس یہ جو دندان شکن جواب دیا جاتا ہے۔اسی لئے دیا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی حالت دنیاوی لحاظ سے بہت کمزور تھی۔ورنہ دنیا پر یہ ثابت کرنا بہت مشکل ہو جاتا کہ اسلام تلوار کے ذریعہ نہیں پھیلا۔تو اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ کسی جماعت کو حق پر قائم کرنے کے وقت غیرت دکھاتا ہے۔اور یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کا کام کسی اور کی طرف منسوب کیا جائے اس لئے وہ سب کچھ خود کرتا ہے۔یعنی اسکا نام پھیلانے والے چھوٹے درجہ کے لوگ ہوتے ہیں۔لیکن جب وہ اس کام کو شروع کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ انہیں بڑا بنا دیتا ہے اس لئے وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ دین کا فلاں کام ہم نے کیا یا ہمارے ذریعہ دین پھیلا بلکہ یہ کہتے ہیں کہ فلاں کام کرنے کی وجہ سے ہم پر انعام ہوا۔پس کوئی نبی۔کوئی صحابی۔کوئی ولی۔کوئی بزرگ نہیں کہہ سکتا کہ ہماری طاقت اور ہمت سے خدا کا دین پھیلا۔بلکہ انکی ابتدائی حالت کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں دین کا خادم ہونے کی وجہ سے