خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 613 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 613

خطبات محمود جلد (5) ۶۱۲ کہ زندگیاں وقف کرو۔وہاں یہ بھی کہتا ہوں کہ خوب سوچ سمجھ کر اس راہ میں قدم رکھو۔کیونکہ یہ اقرار کرنا پڑے گا کہ ہم اپنی زندگیوں سے دستبردار ہو گئے۔بعض عزیزوں رشتہ داروں کی طرف سے مشکلات پیدا کی جائیں گی۔یا اپنا نفس ہی پیچھے ہٹنے کے لئے کہے گا۔پس خوب سوچ کر دعاؤں کے بعد اس راہ میں قدم رکھو۔پھر یہ بھی اقرار کرنا پڑیگا کہ جہاں اور جس جگہ چاہو بھیج دو۔ہمیں انکار نہیں ہوگا۔اگر ایک منٹ کے نوٹس پر بھی ان کو بھیجا جائے گا تو ان کو جانا پڑیگا۔اگر چہ یہ بہت بڑا کام اور بہت بڑا ارادہ ہے۔مگر اسکے انعامات بھی بہت بڑے ہیں۔اگر کسی کو ایک جگہ ہزار روپیہ بھی آمدنی ہوگی تو اسکو چھوڑنا پڑے گا۔اور ایسی جگہ جانا ہوگا جہاں صرف دس روپے ملنے کی امید ہوگی۔اور آباد علاقوں کو چھوڑ کر جنگلوں کے سفر میں جانا پڑے گا۔شہروں کو چھوڑ کر گاؤں میں رہنا پڑے گا۔خطر ناک موسم انکو اس ارادہ سے روک نہ سکیں۔جنگیں ان کے لئے رکاوٹ کا موجب نہ ہوں۔دشوار گزار راستہ ان کو بددل نہ کر دیں۔بیوی بچوں کے تعلقات ان کے عزم کو ڈھیلا نہ کر سکیں۔وہ چاہیں تو بیوی بچوں کو لے جائیں یا کہیں رکھیں مگر یہ نہیں ہو گا کہ کہیں کہ ہم ان سے علیحدہ نہیں ہو سکتے۔پس جو ان تکالیف کو برداشت کریں گے۔خدا انکی مدد کرے گا۔اور ان کو بڑے بڑے انعامات کا وارث بنائے گا۔پس جو اپنے آپکو پیش کریں۔وہ سوچ سمجھ کر کریں۔یہ کام بڑی بڑی قربانیاں چاہتا ہے۔جولوگ تعلیم کی عمر کو گزار چکے ہیں۔وہ اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔اور جو کوئی ہنر بھی جانتے ہیں۔ان کو اس وقت بھیج دیا جا سکتا ہے۔اور جو طالبعلم ہیں تو وہ تیار ہو سکتے ہیں۔اور مجھ سے مشورہ کر سکتے ہیں۔کہ کون سا کام سیکھیں۔اگر ہمیں ۲۰ آدمی بھی ایسے مل جائیں تو موجودہ تبلیغ سے کہیں بڑھ کر تبلیغ ہوسکتی ہے اور ایسے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں جو آج تک کی کامیابیوں سے بہت بڑھ کر ہونگے جب تک ایسے انسان نہیں ہوں گے کام بخوبی نہیں ہو سکے گا۔کچھ دوستوں نے اپنے بچوں کو دین کے لئے وقف کیا ہے۔نہیں معلوم وہ بچے بڑے ہو کر کیا پسند کریں گے۔لیکن ماں باپ کو تو اپنی نیت کا ثواب مل چکا ہے۔پس جو لوگ اپنے بچوں