خطبات محمود (جلد 5) — Page 603
خطبات محمود جلد (5) ۶۰۲ دور ہو چکے ہیں اسلام سے واقف کریں۔مجھے آپ کی جماعت کے سوا اور کوئی جماعت ایسی نظر نہیں آئی جس کے دل میں اسلام کا درد اور محبت ہو۔اس لئے میں آپ کو ہی متوجہ کرتا ہوں۔اب ہم کہتے ہیں کیا وہاں مولوی نہیں ہیں۔پھر کیا دنیا میں ایسے لوگ نہیں ہیں جو مسلمان کہلاتے ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ اس خط کے لکھنے والے نے ان مولویوں اور مسلمانوں سے مایوس ہو کر ہمیں لکھا ہے کہ تم ادھر توجہ کرو۔اصل بات یہ ہے کہ عقلمند اور سمجھدار لوگ خوب جانتے ہیں کہ اسلام کی حفاظت اور تبلیغ خدا کے فضل سے ہمیں لوگ کر سکتے ہیں۔اور کر رہے ہیں۔جن کو ان کے مولوی ایک دجال کے ماننے والے کہتے ہیں۔دیکھئے ابھی مولوی صاحبان قادیان میں آئے تھے۔اور حضرت مسیح موعود کے خلاف جس قدر ان سے ہو سکا زور لگا کر چلے گئے ہیں۔باہر بھی جہاں تک ان سے ہو سکتا ہے ہمارے سلسلہ کے خلاف زور لگاتے رہتے ہیں۔اسلام کی حفاظت کے لئے کیا کرتے ہیں۔چالیس کروڑ مسلمانوں کی تعداد بتلائی جاتی ہے۔ان کے مقابلہ میں احمدیوں کی تعداد بہت قلیل ہے۔گویا کچھ بھی نہیں۔کیونکہ وہ ہم سے ہزاروں گنا زیادہ ہیں۔لیکن تبلیغ دین اور حفاظت اسلام کے متعلق ان تمام مسلمانوں اور ہماری جماعت کی کوششوں کا مقابلہ کر کے دیکھ لیا جائے کہ کیا نسبت ہے۔وہ باوجود اس قدر زیادہ ہونے کے دین کی خاطر کیا کر رہے ہیں۔اور ہم باوجود اس قدر قلیل ہونے کے کس کام میں مصروف ہیں۔اگر ان کے بڑے بڑے امیروں اور تاجروں کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے اور کاموں کے لئے خواہ کتنا ہی خرچ کیا ہو۔مگر اشاعت اور حفاظت اسلام کے لئے شاید ہی کوئی رقم تمہیں ان کے اخراجات میں نظر آئے گی۔مگر ان کے مقابلہ میں ایک غریب سے غریب احمدی کو بھی دیکھا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ اس غریب نے اپنے ماتھے کے پسینے کی کمائی سے بھی ایک حصہ اشاعت اور حفاظت اسلام کے لئے خرچ کیا ہوگا۔ہما را دعوی ہے کہ اسلام ہمارا ہے۔اور ان کا دعویٰ ہے۔اسلام ہمارا ہے۔لیکن