خطبات محمود (جلد 5) — Page 593
خطبات محمود جلد (5) ۵۹۲ بڑے ہیں۔اور تمام وہ جو چھوٹے سے چھوٹے ہیں۔وہ ان دو جملوں میں شامل ہیں۔لیکن بہت لوگوں کو اس سے غلطی لگی ہے۔اور انہوں نے خیال کر لیا ہے کہ بس یہی دو فقرے ہیں جن کا اقرار کر لینا ضروری ہے۔باقی جس قدر اسلام کے احکام ہیں ان کو ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔حالانکہ اسلام کے تمام احکام انہی دو ۲ فقروں کے اندر داخل ہیں۔اس لئے ان کا مانا بھی نہایت ضروری ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ ایک موقعہ پر آپ نے صرف یہ کلمہ بیان فرمایا ہے۔مگر ساری تشریحات کو اس میں داخل قرار دیا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ عبد القیس قبیلہ کا وفد جب آپ کے پاس حاضر ہوا۔اور اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ کے اور ہمارے درمیان ایک ایسی روک حائل ہے جو ہمیں بار بار آپ کے پاس نہیں آنے دیتی اور وہ مضر قبیلہ کے لوگ ہیں۔جو اسلام کے سخت مخالف اور ہمارے بڑے دشمن ہیں۔ان میں سے گزر کر ہم سوائے اشہر حرم کے اور کسی مہینے میں آپ کے پاس نہیں پہنچ سکتے۔اس لئے آپ ہمیں کوئی ایسی تعلیم بتادیں جو ہم اپنی قوم کو دے سکیں۔اور وہ ہدایت پا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا کہ میں تمہیں چار باتوں کے کرنے کا حکم دیتا ہوں۔اور چار کے کرنے سے روکتا ہوں۔وہ چار باتیں جن کے کرنے کا آنحضرت نے ان کو حکم دیا۔ان میں سے ایک یہ تھی کہ اللہ کے ایک ہونے پر ایمان لانا۔بس اتنا ہی آپ نے فرمایا۔اس کے ساتھ اپنی رسالت کے اقرار کا ذکر ہی نہیں کیا۔پھر آپ نے ان سے سوال کیا کہ جانتے ہو خدا کو ایک ماننے کے کیا معنی ہیں۔معلوم ہوتا ہے جس طرح آجکل بعض لوگوں نے اَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُول الله کے ظاہری الفاظ کو پیش نظر رکھ کر غلطی کھائی ہے۔اور یہ نہیں سوچا کہ اس میں اسلام کی تمام تعلیم کو خلاصہ کے طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔اس غلطی میں مبتلا ہو جانے کا خیال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے متعلق پیدا ہوا۔اس لئے آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ اس کا تم کیا مطلب سمجھتے ہو۔انہوں نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اس کے یہ معنی ہیں کہ اللہ کو ایک