خطبات محمود (جلد 5) — Page 590
خطبات محمود جلد (5) ۵۸۹ مسائل کی ضرورت ہے۔سو ہر شخص کو ادیب نہیں بنا۔پس وہ لوگ جو اشعار یاد کر لیتے ہیں۔ان کیلئے ان ہر چند ضروری مسائل کا یاد کر لینا کونسی مشکل بات ہے۔اگر تقسیم کر کے دیکھا جائے تو بہت تھوڑا وقت ان چیزوں پر صرف ہوگا اسی طرح عیسائیوں سکھوں۔آریوں کے متعلق بھی چند اصولی مسائل ہیں۔جو پندرہ بیس سے زیادہ نہیں۔ان پر بھی اگر آدھ آدھ گھنٹہ لگایا جائے تو سارا کام ایک سال سے زیادہ کا نہیں۔ہر ایک مسئلہ اور ہر ایک کتاب کو بالاستیعاب دیکھنے پڑھنے کی عام لوگوں کو ضرورت نہیں۔صرف اصولی مسائل کا علم ضروری ہے۔جماعت کے لوگ خواہ پڑھے لکھے ہوں خواہ ان پڑھ۔سب اس طریق سے دین کے ضروری مسائل کے عالم ہو جائیں گے۔جن کو اللہ تعالیٰ توفیق دے وہ اور بھی بڑے بڑے علوم حاصل کریں۔مگر ہر ایک شخص کے لئے موقع نہیں کہ ان علوم کو حاصل کرے۔اگر ان چیزوں کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیا جائے تو کسی مولوی کی طاقت نہیں کہ ان کو دھوکہ دے سکے۔چونکہ جماعت کا کام ہی تبلیغ ہے۔اس لئے نہایت ضروری ہے کہ جماعت کے لوگ علم کی طرف توجہ کریں ورنہ جو لوگ علم کے بغیر لوگوں کو سمجھاتے ہیں وہ گناہ کرتے ہیں۔کیسی بے حیائی ہے کہ خود ایک بات کا علم نہ ہومگر کوشش یہ کی جائے کہ دوسرے کو یقین دلا دیا جائے۔پہلے خود علم سیکھا جائے۔بغیر اس کے کام نہیں ہوسکتا۔صحابہ کون سے علوم کے جو آجکل مولوی بننے کیلئے ضروری سمجھے جاتے ہیں عالم تھے۔مگر ان کو دین کا علم تھا۔اور اس کا انہیں شوق تھا۔احادیث سے ثابت ہے کہ جب وہ آپس میں ملتے تھے تو یہ نہیں ہوتا تھا کہ اپنے وقت کو ضائع کر دیں۔بلکہ وہ کہتے تھے۔آؤ بھائی دین کی باتوں سے اپنے دل کو ٹھنڈک پہنچائیں۔انکی مجالس میں لغو باتیں نہیں ہوتی تھیں۔بلکہ ایمان کی باتیں ہوتی تھیں اور وہ اپنی مجالس میں کہتے تھے کہ آؤ ایمان کی باتیں کریں۔تو ان کو دین کا شوق تھا اور وہ سیکھتے تھے۔ل : بخاری کتاب الایمان باب بنی الاسلام على خمس