خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 580 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 580

خطبات محمود جلد (5) ۵۷۹ اٹھائے کامیاب و بامراد ہو جاتے۔ابوجہل۔عتبہ۔شیبہ۔وغیرہ جتنے سرکش اور دشمنانِ اسلام تھے آنحضرت جب صبح کو نماز کیلئے اُٹھتے تو دیکھتے کہ ان کے گلے میں طوق پڑے ہوئے ہیں۔اور آپ کے دروازے پر پڑے ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کی قدیم سے سنت ہے کہ پہلے اپنے مخلص بندوں کو کوشش کرنے کیلئے کہتا ہے۔جتنی انکی طاقت ہوتی ہے۔اس کو وہ خرچ کرتے ہیں۔باقی مد دخدا تعالیٰ خود دیتا ہے۔اور وہ کامیاب ہو جاتے ہیں۔اگر ایسا نہ ہو تو ان کے اخلاص کا کیسے اظہار ہو۔اس کی مثال ہم گورنمنٹ میں دیکھتے ہیں۔بعض کاموں کیلئے وہ لوگوں کو کہہ دیتی ہے کہ تم اتنا روپیہ مثلاً پندرہ یا بیس ہزار اگر جمع کر لوتو باقی ہم دے دیں گے۔یہی اللہ تعالیٰ کا طریق ہے۔پس کسی کامیابی کے لئے کوشش ضرور کرنی پڑتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کا تصرف خود کام کرتا ہے۔اور عظیم الشان کامیابی حاصل ہو جاتی ہے۔انسانی عقل اور تاریخ گواہی دے رہی ہے کہ مسلمانوں نے کوشش کی مگر ان کی کوشش کا لازمی نتیجہ فتح نہ تھی۔وہ خدا نے اپنے فضل سے ان کو دی۔یہی حال ہمارا ہے۔یہ سچ ہے کہ ہمارے دشمن ناکام ہوں گے۔ان میں ہمیں یقینا غلبہ حاصل ہوگا۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود سے وعدہ فرمایا و جاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القیامۃ۔کہ تیرے متبعین کو تیرے منکرین پر غلبہ دوں گا۔پس باوجود اسکے کہ کامیابی خدا کے ہی فضل سے ہوگی۔مگر یا درکھو کہ خدا کا فضل اس وقت تک نہیں آئے گا۔جب تک کہ ہم اپنی تمام طاقت و ہمت صرف نہ کر لیں۔ہماری فتح اور کامیابی یقینی ہے۔مگر اس کو ہماری کوشش اور سعی کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا ہے۔اس لئے جب تک ہم اپنی پوری طاقت اور کوشش سے کام نہ لیں گے۔کامیابی حاصل نہ ہوگی۔دین کے لئے خدمت کرنا کوئی فرض کفایہ نہیں۔بلکہ جس طرح نماز روزہ ہر ایک اس انسان پر فرض ہے جو عاقل بالغ ہے۔اسی طرح دین کی خدمت ہر ایک پر فرض ہے۔اس لئے ہر ایک کو اس میں لگ جانا چاہیئے۔میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں بتایا تھا کہ ہمارے مخالف پھر زور کر کے اٹھے ہیں۔اور زور کے ا :- تذکرہ ص ۶۱ ، ص ۹۶