خطبات محمود (جلد 5) — Page 574
خطبات محمود جلد (5) ۵۷۳ ہمارے رستہ میں تکالیف اور دشواریاں پیدا کی جا رہی ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ ہم پر خدا کے فضل ہو نیوالے ہیں۔اس لئے جس طرح ہر بہار کے وقت زہریلے پودے بھی پھوٹ نکلتے ہیں۔اسی طرح ہمارے مخالف بھی اب جوش دکھلانے لگے ہیں اور پھر میدان میں آئے ہیں۔ہم نے کسی کا کیا بگاڑا ہے۔لیکن جو اُٹھتا ہے۔ہمیں پر گالیوں کی بوچھاڑ شروع کر دیتا ہے۔ہندو رسول کریم کو گالیاں دیتے ہیں۔عیسائی اس مقدس وجود کو برا بھلا کہتے ہیں۔ان لوگوں کے مقابلہ میں انکی رگِ حمیت حرکت میں نہیں آتی پھر اگر کوئی ہندو عیسائی ہوتا ہے تو وہ بھی اسلام کے خلاف لکھتا ہے۔اور اگر سکھ عیسائی ہوتا ہے تو اس کا زور بھی اسلام ہی کے خلاف صرف ہوتا ہے۔یہ نہیں کہ جس قوم میں سے کوئی عیسائی ہو اس کے متعلق لکھے۔تا کہ سمجھا جائے کہ اس کو اپنی قوم سے ہمدردی ہے۔اس لئے ایسا کرتا ہے۔نہیں جو بھی اُٹھتا ہے وہ اسلام کے مقابلہ میں ہی اپنی طاقت خرچ کرتا ہے۔مگر اسکے لئے مسلمانوں کو جوش نہیں آتا۔ان کو اگر جوش آتا ہے۔اگر یہ بھڑک اُٹھتے ہیں تو احمدیوں کے خلاف۔اور احمدیوں کے ان مضامین کے خلاف جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جلال ظاہر ہوتا ہے۔ان کے صوفیاء اگر اُٹھیں گے تو احمدیوں کے خلاف لکھیں گے۔ان کے مولوی اپنی گالیوں کا نشانہ بنائیں گے تو احمدیوں کو۔اگر کوئی مسلمان عیسائی ہو جائے تو ان کو ناگوار نہیں گزرتا۔لیکن اگر کوئی احمدی ہو جائے تو گویا اس میں سارے عیب جمع ہو جاتے ہیں۔اور اس کی مخالفت کرنا وہ عین فرض سمجھتے ہیں۔مختلف مذاہب کے لوگ کسی قصبہ یا گاؤں میں رہتے ہوں کسی کو کچھ تکلیف نہیں ہوتی۔لیکن جہاں کوئی احمدی ہوا۔اس کے نکالنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔کیونکہ ان کے نزدیک اس سے بڑھ کر کوئی برا نہیں۔مولویوں کے قلم کے تلوار اگر کسی کے مقابلہ پر اُٹھتے ہیں تو وہ ہم ہی ہیں۔خدا نے ان سے لوہے کی تلوار تو چھین لی ہے۔کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ایک بچے مذہب کے مقابلہ میں یہ لوگ اُٹھیں گے۔لیکن ان کے قلم کے تلوار اپنا پورا زور ہمارے مقابلہ میں صرف کر رہے ہیں۔وہ اپنی بدگوئی اور گالیوں کی بارش ہم پر کر رہے ہیں۔اور