خطبات محمود (جلد 5) — Page 573
خطبات محمود جلد (5) ۵۷۲ گئی تھیں۔اور اس وقت کہی گئی تھیں جبکہ ہر قسم کے سامان ان کے مخالف تھے اور اب ہو بہو پوری ہو رہی ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی صداقت کو تسلیم نہ کیا جائے۔دیکھو صوفیوں۔مولویوں۔جاہلوں۔امیروں غرض ہر طبقہ کے لوگوں نے مخالفت کی۔مگر کامیابی اسی کو حاصل ہوئی جس کو لوگ مٹانے پر تلے ہوئے تھے۔اور وہ حضرت مرزا صاحب تھے۔جب مکہ فتح ہوا تھا تو مکہ کی عورتوں کے ساتھ ہندہ۔ابو سفیان کی بیوی بھی بیعت کرنے کو آئی آنحضرت نے فرمایا۔اقرار کرو کہ ہم آئندہ شرک نہیں کریں گی۔ہندہ نے کہا۔یا رسول اللہ کیا اب بھی ہم شرک کریں گی۔آپ اکیلے تھے۔ساری قوم متفقہ طاقت کے ساتھ بتوں کی مدد میں کھڑی ہوئی تھی۔مگر آپ جوا کیلے تھے کامیاب ہوئے۔اور ساری قوم نے شکست پر شکست کھائی۔کیا اس سے ظاہر نہیں ہو گیا کہ بجٹوں میں کچھ طاقت نہیں۔اگر بتوں میں کچھ بھی طاقت ہوتی تو کیسے ممکن تھا کہ آپ ایک اکیلے ساری قوم پر غالب آجاتے۔تو یہ ایک فطرت کا تقاضا تھا جو ایک عورت کے مُنہ سے ظاہر ہوا۔عورتوں کیلئے کہا جاتا ہے کہ وہ جاہل ہوتی ہیں۔اور اس میں شک نہیں کہ جہاں تعلیم نہ ہو عورتیں ضرور جاہل ہی ہوتی ہیں۔اور عرب میں بھی اس وقت عورتوں کو سیاست میں کچھ دخل نہ تھا۔ایسی صورت میں ہندہ کا یہ کہنا بتاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا باوجود کیلے ہونے کے ساری قوم پر کامیاب ہو جانا انکی صداقت کا عظیم الشان ثبوت ہے۔پس نبیوں کی صداقت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کی مخالفتوں کے باوجود کامیاب ہوا کرتے ہیں۔تا کہ خدا کی خدائی ثابت ہو۔خطرناک ابتلاء آتے ہیں۔جن سے دوسرے لوگوں کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں۔مگر وہ صداقت پر قائم رہتے ہیں۔آخر کار مظفر و منصور ہوتے ہیں۔اور ان کے دشمن خائب و خاسر ہو جاتے ہیں۔یہی معاملہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ہوا۔دنیا نے آپکی مخالفت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔مگر آپ کامیاب ہوئے۔اب پھر میں دیکھتا ہوں کہ کچھ آرام کے بعد ہمارے مخالفین کی طرف سے پھر