خطبات محمود (جلد 5) — Page 48
خطبات محمود جلد (5) ۴۸ مسیح موعود علیہ السلام کے فیصلہ پر رکھی ہے۔اگر تم آپ کے فیصلہ کو مانو گے تو کوئی وجہ نہیں کہ تمہیں ٹھوکر لگے۔زید کھڑا ر ہے یا گرے۔بکر کھڑا رہے یا گرے مگر تم کھڑے رہو گے کیونکہ مسیح موعود کھڑا ہے اور کھڑی چیز کو پکڑنے والا نہیں گرتا بلکہ جو گر نے والی چیز کو پکڑتا ہے وہ گرتا ہے۔جس شخص کو خدا نے سہارا دے کر کھڑا کیا ہے وہ نہیں گر سکتا۔کیونکہ خدا نہیں گرتا۔پس تمھیں اسی کے سہارے کھڑا ہونا چاہیئے جو ہمیشہ کے لئے قائم رہنے والا ہے اور اسی کی ہر ایک بات ماننی چاہئیے۔حضرت مسیح موعود وہی کہتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی کہا جو خدا تعالیٰ نے انہیں کہا اور خدا تعالیٰ غلطی نہیں کرتا۔کیونکہ وہ علیم اور خبیر ہے ہر ایک بات کا علم رکھتا ہے۔اور ہر ایک بات کو جانتا ہے اس لئے مسیح موعود ہی کی بات ایسی ہے جو بلا چون و چرا ماننے کے قابل ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اس بات کی سمجھ دے کہ وہ عقائد میں حضرت مسیح موعود کے اقوال و افعال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال اور قرآن کریم پر ہو نہ کہ کسی اور انسان کے اقوال پر۔کیونکہ اس طرح ٹھوکر لگتی ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ بعض لوگوں کی سمجھ اور عقل دوسروں سے اعلیٰ ہوتی ہے مگر وہ ایسے انسان نہیں کہے جاسکتے۔جو غلطی نہ کرتے ہوں۔یا نہ کر سکتے ہوں اور بالکل پاک ہوں۔امام مالک۔امام حنبل امام شافعی کا اسلام میں بہت بڑا درجہ ہے اور واقعہ میں وہ اسی قابل ہیں لیکن بعض باتیں ایک نے کہی ہیں جن میں نقص ہے لیکن دوسرے نے ان کو تو درست لکھا ہے مگر کسی اور بات میں غلطی کر گیا ہے۔اسی طرح بعض کی کوئی بات غلط ہے اور بعض کی کوئی تو تمام اقوال اور افعال صرف خدا کے ماموروں کے ہی درست ہوتے ہیں ان کے سوا اور کسی کے نہیں ہوتے۔اس لئے ایمانیات کی بنیاد مامورمن اللہ کے اقوال پر ہی ہونی چاہئیے۔خدا تعالیٰ ہمارے اعتقادات کو اپنی مرضی کے مطابق درست رکھے تا ہم ٹھو کر نہ کھائیں اور ہمارے قدم ایسی مضبوط چٹان پر قائم ہوں کہ جہاں سے کبھی نہ ہل سکیں۔الفضل ۲۹ فروری ۱۹۱۷ء)