خطبات محمود (جلد 5) — Page 543
خطبات محمود جلد (5) ۵۴۲ کو یہ باتیں اخبار کے ذریعہ پہنچ جائیں گی۔دنیا میں فتنہ وفساد کے نمونہ اس قدر ملتے ہیں کہ ان کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں وہ خود متوجہ کرتے ہیں۔کون سا ملک ہے جہاں فتن و فساد کے نمونہ نہیں اور جس کو فتنہ و فساد نے تباہ نہیں کیا۔وہ کون سا مذہب ہے جس کی ہلاکت کا باعث تفرقہ نہیں ہوا۔ہر انسان کے لئے خواہ وہ کسی قوم و مذہب یا ملک سے تعلق رکھتا ہوا اسکے تلخ نمونہ موجود ہیں یعنی وہ نصیحت پکڑ سکتا ہے مگر باوجود اس کے کہ ہر جگہ نمونہ موجود ہیں ۹۹ فیصدی ایسے انسان ملتے ہیں جو فتنہ و فساد سے بچنے کی کوشش نہیں کرتے۔خود مسلمانوں نے ہی اس فتنہ و فساد کے باعث وہ تلخ جام پیا کہ ایک در در کھنے والا ان واقعات کو پڑھ کر برداشت نہیں کر سکتا کہ آنسوؤں کو تھام سکے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر قائم ہو نیوالی جماعت جس نے ایثار کے ایسے نمونے دکھائے کہ کوئی کیا دکھا سکے گا۔جنہوں نے تمام چیزوں کو لات مار دی۔مال انہوں نے چھوڑ دیئے جانوں کی انہوں نے پرواہ نہ کی۔وطن سے وہ نکل گئے۔رسم و رواج کو انہوں نے مٹا دیا۔اپنے خیالات اور جذبات کو انہوں نے ترک کر دیا۔ہر ایک وہ چیز جو ان کو پسند تھی اسکو خدا کی راہ میں قربان کر دیا۔درمیان میں انہوں نے کوئی بات نہ رہنے دی گویا وہ مٹ گئے۔خدا ہی خدا باقی رہ گیا۔خدا موجود تھا ان کا کچھ باقی نہیں رہا۔یہی تو حید ہے اور یہی توحید پر ایمان لانا۔منہ سے تو عیسائی بھی کہتے ہیں کہ ہم توحید پرست ہیں۔عیسائی مسلمانوں کو الزام دیتے ہیں کہ مسلمان مشرک ہیں اپنے ملک میں یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف جب لوگوں کو نفرت دلاتے ہیں تو یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلمان مشرک ہیں حالانکہ تثلیث کو پوجنے والے عیسائی خود ہیں۔اور منہ سے تو وہ قوم بھی جو تینتیس ۳۳ کروڑ دیوتا پوجنے والی قوم ہے یہی کہتی ہے کہ ہماری قوم موحد ہے اور شرک بُری چیز ہے زرتشتی سمندر کے پاس جا کر اس کو سجدہ کریں گے۔آگ کو سجدہ کرتے سورج سے دعائیں مانگتے ہیں۔لیکن ان کے دستور جس وقت ممبر پر کھڑے ہوں گے یہی کہیں گے کہ شرک بُری چیز ہے اور خدا صرف ایک ہی ہے۔