خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 43

خطبات محمود جلد (5) b ۴۳ میں آ جاتا اور ہر قسم کے دکھ اور تکالیف سے بچ جاتا ہے ) ایسے لوگوں کو بتاؤ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّهَا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْليما، پس تیرے رب کی قسم یہ ایمان کو اس وقت تک نہیں پاسکیں گے حتٰی يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْم یہاں تک کہ جتنے اختلافات ان کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ان کو تیری طرف نہ لوٹائیں۔اور اپنی آرزوؤں کے ماتحت نہ رکھیں بلکہ ہر ایک اختلاف کو تیری طرف لائیں۔ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّهَا قَضَيْتَ پھر جو تیرا فیصلہ ہو اس کے قبول کرنے میں ان کے دل تنگی محسوس نہ کریں۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو فیصلہ کو قبول تو کر لیتے ہیں مگر ان کے دل اس پر راضی نہیں ہوتے۔مثلاً ایک عدالت فیصلہ کرتی ہے کہ فلاں باغ یا فلاں مکان یا اتنا روپیہ فلاں کو دیا جائے۔اب دینے والے کو یہ برا تو لگتا ہے اور نہیں چاہتا کہ دیوے اور لینے والا سمجھتا ہے کہ مجھے کم دلایا گیا ہے۔جتنا میرا حق تھا اتنا نہیں ملا۔لیکن وہ فیصلہ دونوں کو ماننا پڑتا ہے اور گورنمنٹ ان کے اس طرح عمل کرنے سے خوش ہو جاتی ہے۔اور یہ نہیں کہتی کہ تم اس فیصلہ کے نفاذ سے دل میں کیوں بُرا مناتے ہو۔اس لئے اگر کوئی دل میں ناراض اور نا خوش ہو تو گورنمنٹ اس پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کرتی۔لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے جو حکم بنا کر بھیجا ہے اس کی وہ عزت اور وہ شان ہے کہ اگر اس کے فیصلہ کو تم مان تو لو مگر دل میں بُرا سمجھو گے۔تو ہم تمہیں اپنا قرب نہیں دیں گے۔اور تم ایمان حاصل نہیں کر سکو گے اس کے فیصلہ کو تو تمھیں اس طرح ماننا چاہئیے کہ تمہارے دل بھی غمگین نہ ہوں اور ذرا بھی تنگی محسوس نہ کریں۔تم یہ یقین کر لو کہ اس نے جو بھی فیصلہ کیا ہے وہی حق اور درست ہے اور اسی طرح ہونا چاہیئے تھا۔اور یہ بات نہ صرف تمہارے مونہوں سے نکلے بلکہ تمہارے دل میں بھی یہی بات ہو۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو منہ سے تو کہتے ہیں کہ یہ بات درست ہے مگر ان کے دل نہیں مانتے اس لئے اس پر عمل نہیں کرتے۔اسی بات کے دور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے یہاں دو باتیں بیان فرمائی ہیں ایک یہ کہ اس کے کسی فیصلہ سے تمہارے دلوں میں تنگی محسوس نہ ہو اور دوسرے یہ کہ تم اس کی فرمانبرداری بھی کر کے دکھلاؤ۔