خطبات محمود (جلد 5) — Page 491
خطبات محمود جلد (5) ۴۹۰ نہیں کر سکے گا کہ خود بھی روٹی پکا کر دکھاوے پس وسوسہ ڈالنا کوئی مشکل نہیں ہاں اسکے مقابلے میں کچھ کر کے دکھانا ایک کام ہے۔خدا تعالیٰ نے سورۃ الناس میں تین صفات الہیہ سے پناہ منگائی ہے اور اس طرح یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وسوسہ کے دُور کرنے میں کون سی صفات کام کرتی ہیں۔پس پہلے ان صفات کو اپنے اندر جلوہ گر کرو اور پھر وساوس اور شکوک کے دُور کرنے کیلئے نکلو۔پہلے ربوبیت ہو۔یعنی انسان آہستہ آہستہ ترقی کرتا اور بڑھاتا جائے۔جس طرح ربّ کے معنی ہیں بتدریج ترقی دینے والا۔اسی طرح جب انسان صفت، ربوبیت کو اپنے اندر پیدا کر لے گا تو یہ بھی اپنے علم کو آہستہ آہستہ ترقی دیتا جائے گا۔پھر ربوبیت سے بڑھ کر ملکیت ہے۔جس طرح بادشاہ فیصلہ کرتا ہے اسی طرح تم بھی خدا کی صفت ملکیت کے فیضان کو اپنے اوپر جاری کرو اور فیصلہ کرنے کی قوت اپنے اندر پیدا کرو۔اس کے بعد صفتِ الوہیت کی چادر کو اپنے اوپر لے لو۔جب یہ حالت ہو جائے گی تو پھر کوئی مخالف طاقت اثر نہ کر سکے گی۔بلکہ فرمانبرداری کرنے پر مجبور ہوگی۔عیسائیوں نے اس حقیقت کو نہ سمجھنے کے سبب سے حضرت مسیح کو خدا اور خدا کا بیٹا کہہ دیا حالانکہ اس وجہ سے اگر یہ درجہ کسی انسان کو دیا جا سکتا تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے۔کیونکہ آپ پر شیطان کا کوئی اثر نہ ہو سکتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ آپ نے فرمایا: میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے ا۔پس یہ تیسرا کمال کا درجہ ہے اور یہاں شیطان کا کوئی داؤ کام نہیں کر سکتا اور وہ کوئی وسوسہ نہیں ڈال سکتا بلکہ خود اسکو ایسے انسان کی فرمانبرداری کرنی پڑتی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا نہیں تھے مگر آپ نے صفت الوہیت کو اپنے اندر اس قدر لیا کہ خدا تعالیٰ نے بھی کہہ دیا۔قُلْ يَا عِبَادِی (الزمر : ۵۳) کہو اے میرے بندو! یاران كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي ل : صحیح مسلم کتاب صفات المنافقين و احكامهم باب تحريش الشيطان و ان مع كل انسانٍ قرينا