خطبات محمود (جلد 5) — Page 480
۴۷۹ 61 خطبات محمود جلد (5) لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا کے معنے فرموده ۸ جون ۱۹۱۷ء حضور نے تشہد وتعوذ کے بعد حسب ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:۔يزَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَمِنِ اسْمُهُ يَحْلِى لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا ( مریم رکوع اول) اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ ہر ایک عظیم تغیر جو دنیا میں کرتا ہے۔اس سے پہلے اس کا ایک نمونہ پیدا کرتا ہے جیسا کہ اس کی حکمت کا ملہ چاہتی ہے تا کہ وہ نمونہ مثال کے طور پر کام آئے اور اس کو دیکھ کر لوگ آئندہ حق کے قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاویں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے اور خدا تعالیٰ کی صفات چاہتی ہیں درحقیقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کامل نبی گزرے ہیں۔کیونکہ جو رب العالمین کی طرف سے کامل نبی ہوضرور ہے کہ وہ ساری دنیا کی طرف ہو۔لیکن لوگوں کو نبوت و رسالت سے آگاہ کرنے کے لئے گاؤں بگاؤں نبی بھیجے گئے۔وہ انبیاء ایک نمونہ تھے۔لوگوں نے ان پر اعتراض کئے۔بحث مباحثے کئے۔ان کے مقابلے کئے۔اس پر انکی سچائی کے نشان ظاہر ہوئے اور انکی تعلیم معلوم ہوئی کہ کیسی ہوتی ہے اور یہ بھی پتہ لگا کہ اس تعلیم کو بجھنے کے لئے کن کن مسائل کا جاننا اور سمجھنا ضروری ہے۔جب سب قومیں ان باتوں کو جان چکیں تب وہ نبی آیا جو رب العالمین کی طرف سے تمام جہان کے لئے تھا۔اسی طرح وہ کتاب بھی ایسی لایا جو تمام دنیا کے لئے ایک ہی ہے اور ابد الآباد تک قائم رہنے والی ہے۔جس طرح اس خدا کی خدائی کو کوئی نہیں بدل سکتا۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو خدا