خطبات محمود (جلد 5) — Page 467
خطبات محمود جلد (5) ۴۶۶ ہوگا۔اور افراد میں سے سب سے زیادہ مصیبت زار کے لئے در پیش ہوگی۔دیکھو بلجیم تباہ ہوا۔مگر اس کا بادشاہ۔بادشاہ ہی ہے۔اس کے سفیر تمام ممالک میں موجود ہیں۔مگر زار کی جو حالت ہوئی ہے وہ سب کو معلوم ہے۔اس سے زیادہ اور کیا صاف اور کھلا نشان ہوسکتا ہے۔پس آپ کی ایسی کھلی کھلی پیشگوئیوں کے باوجود آپ سے استہزاء کیا جانا صاف ظاہر کر رہا ہے کہ آپ خُدا کے نبی اور رسول تھے۔خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود کے دشمنوں کو آنکھیں بخشے۔تا وہ آپ کو پہچانیں۔اللہ کے رسول بڑا فضل ہوتے ہیں۔جو لوگ ان کو قبول کرتے ہیں وہ بڑے فضلوں کے وارث ہو جاتے ہیں، ہماری دُعا ہے کہ خدا وہ دن جلد لائے کہ اسلام کی صداقت تمام دنیا پر پھیل جائے۔اتنا فرما کر آپ بیٹھ گئے اور جب دوسرے خطبہ کے لئے اٹھے تو فرمایا ) ایک بات بیان کرنی رہ گئی ہے۔اور وہ یہ کہ مخالفین کو دھو کہ لگا ہے کہ ان کے نزدیک حضرت مسیح موعود نے صرف ایک یہ ہی زلزلہ کی پیشگوئی کی ہے۔مگر واقعہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کو خدا نے کئی زلزلوں کی خبر دی ہے۔چنانچہ ان میں سے بعض بڑے بڑے فرانسسکو وغیرہ مقامات میں آپ کی زندگی میں ہی آچکے ہیں۔اور ابھی کو نسے رُک گئے ہیں۔جس دن اشتہار آیا۔اور میری توجہ ادھر ہوئی کہ کیسے حق پوش لوگ ہیں۔ایسے کھلے اور بین نشانات کو بھی نہیں مانتے۔اور کہتے ہیں زلزلہ آنا چاہیئے تھا تو خدا تعالیٰ نے۔۱۰ رمئی کی رات کو ایک زور کا زلزلہ بھیج دیا کہ اگر تم یہی چاہتے ہو تو اسی کو دیکھ لو۔دہرم سالہ سے خط آیا ہے کہ بڑے زور کا زلزلہ تھا۔نقصان جان بھی ہوا ہے۔عمارات کو بھی نقصان پہنچا اور نیز یہ بھی لکھا ہے کہ ۱۹۰۵ء سے زیادہ تھا۔ابھی اس کی تفصیلات شائع نہیں ہوئیں۔وہ نادان ابھی سے کیوں گھبراتا ہے۔زلزلہ خُدا کے پاس بہت ہیں۔جس طرح خُدا کے پاس فضل اور احسان بہت ہیں۔اسی طرح اس کے پاس شریروں کے سزا دینے کے لئے زلزلے بھی ہیں۔ابھی تو اور بڑے بڑے عظیم الشان زلزلے آئیں گے۔خدا بہت بڑا رحیم ہے۔ویساہی عذاب دینے میں بھی بہت سخت ہے۔خدا تعالیٰ لوگوں کو حق کے سمجھنے کی توفیق دے۔آمین۔الفضل ۲۲ مئی ۱۹۱۷ء) 1: حقیقة الوحی۔