خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 463

خطبات محمود جلد (5) ۴۶۲ انہوں نے اعتراض کئے۔اس کی جماعت کو حقیر اور ذلیل انہوں نے بتایا کہ یہ کیا مٹھی بھر لوگ ہیں۔تمام دنیا کے مقابلہ میں کیا کریں گے۔اس نے جو دین کی خدمات کیں وہ ان کی نظر میں نہ جچیں ان کو حقیر بتایا اور کہا کہ اس نے دین کی کوئی بڑی خدمت نہیں کی ہے۔اس سے بڑھ کر تو فلاں فلاں نے کی ہے۔اس کی پیشگوئیوں کے متعلق کہا کہ اس طرح تو جوتشی بھی کر لیتا ہے۔غرض اسے اور اس کی ہر ایک بات کو حقیر جانا۔اس کے اخلاق و عادات پر اعتراض کئے گئے۔اس کی خوبیاں بھی انہیں برائیاں نظر آئیں اور جو بات بھی اس نے پیش کی۔اسی پر انہوں نے سر ہلا کر کہدیا کہ کچھ نہیں تو ایک نبی بھی ایسا نہیں جس سے انہوں نے ایسا سلوک نہ کیا ہو۔حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو اگلے اور پچھلے سب نبیوں سے افضل اور سب کے سردار تھے۔جن کی خوبیوں کا انسان نہ آپ سے پہلے کوئی پیدا ہوا نہ آئندہ ہوگا۔اس عظیم الشان انسان کو بھی حقیر سمجھا گیا اور اس پر بھی استہزاء کیا گیا۔پس جبکہ استہزاءسب انبیاء کے ساتھ ہوا تو ضرور تھا کہ اب جو رسول آیا ہے اس کے ساتھ بھی ہنسی اور استہزاء سے پیش آیا جاتا۔اور اگر اس سے استہزاء نہ کیا جاتا تو گویا وہ رسول نہ ہوتا۔اگر کوئی نبی ہوکر آئے۔اور لوگ اس سے ہنسی اور استہزاء نہ کریں وہ نبی نہیں ہو سکتا۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے نبیوں کی علامات میں سے ایک بڑی علامت یہ بھی مقرر کی ہے۔اور یہ ایسی علامت ہے جس میں کسی ایک نبی کا بھی استثناء نہیں ہے۔بعض لوگوں کو اس نبی کی شناخت ہی اسی طرح ہوئی۔اور ان کے حق قبول کرنے کا ذریعہ ہی یہ بات ہوئی ہے۔ایک شخص نے مجھے بتایا کہ وہ بالکل کچھ پڑھنا لکھنا نہیں جانتا۔اس کے پاس کسی شخص نے ذکر کیا کہ پنجاب میں ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔تمام مولوی اس کی تکفیر کر رہے ہیں۔اور ہر طرف سے اس پر لعنت و ملامت ہو رہی ہے مگر وہ اپنے دعویٰ سے ذرا نہیں ہٹتا۔یہ کہنے سے اس کی غرض استہزا تھی کہ باوجود مولویوں کے اس قدر ہنسی کرنے کے پھر بھی وہ ایسا آدمی ہے کہ اپنے دعویٰ سے باز نہیں آتا۔لیکن اس شخص نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ وعظ میں ایک مولوی سے اسی آیت پر وعظ سنا تھا کہ قرآن میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ کوئی ایک بھی نبی ایسا نہیں ہوا جس سے استہزاء نہیں کی گئی۔یہ بات میرے دل میں بیٹھی ہوئی تھی۔میں نے اس شخص سے یہ سنتے ہی کہد یا کہ وہ سچا ہے۔اس نے پوچھا کیوں؟ میں نے جواب دیا کہ اس لئے کہ قرآن میں لکھا ہے کہ کوئی رسول نہیں آیا جس سے لوگوں نے ہنسی نہ کی ہو۔تو اس طرح اس کے لئے یہ بات ہدایت کا موجب ہوئی۔