خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 36

خطبات محمود جلد (5) ۳۶ تم لوگ یہ بات خوب یا درکھو کہ بڑے انعاموں کے لئے قربانیاں بھی بڑی ہی کرنی پڑتی ہیں اور یہ قربانیاں صرف مال سے ہی نہیں ہوتیں بلکہ اور بھی بہت طرح سے ہوتی ہیں۔اب تو ایسا ہوتا ہے کہ جو شخص چندہ دیتا ہے وہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں نے اپنی طرف سے کافی قربانی کر دی ہے لیکن بڑے بڑے انعام اس طرح نہیں ملا کرتے۔وہ قو میں جنہوں نے بڑے انعامات حاصل کئے ہیں انہوں نے اپنا سب کچھ کیا مال کیا جان کیا اولا د کیا وطن کیا جائدادیں قربان کیا ہے اس وقت اگر ایسی ضرورت نہیں کہ اس طرح کی قربانیاں کی جائیں تو ہر ایک یہ نیت تو کر لے کہ اگر کبھی ضرورت پڑی تو میری عزت میرا وطن میرا مال میری اولاد میر اعلم اور میری جان غرضیکہ کسی چیز کو خدا کی راہ میں قربان کرنے سے میں دریغ نہ کرونگا اور جو کچھ بھی ہوگا سب کچھ خدا کے لئے قربان کرنا پڑے گا تو کر دوں گا۔اور جب مومن ایسی نیت کرلے تو خدا تعالیٰ اس کو توفیق بھی دے گا۔اس وقت ہم میں سے بعض ایسے ہیں کہ جن کو کوئی چھوٹا سا ابتلاء آتا ہے تو گھبرا جاتے ہیں بعض لکھتے ہیں کہ میری تجارت بند ہو گئی اس سے سخت ابتلاء ہے بعض لکھتے ہیں کہ احمدی ہونے کی وجہ سے لڑکی نہیں ملتی۔جس سے بہت بڑا ابتلاء ہے وغیرہ وغیرہ۔میں کہتا ہوں۔بھلا یہ باتیں چیز ہی کیا ہیں۔ان کے مقابلہ میں جو پہلوں کو پیش آئیں اور ان کے مقابلہ میں یہ حیثیت ہی کیا رکھتی ہیں۔پس تم یہ مت سمجھو کہ تمہارے لئے اسی قسم کے ابتلاء ہیں بلکہ میں تو دیکھتا ہوں حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ ابتلاء پر ابتلاء آئیں گے بہت ہیں جو مرتد ہو جائیں گے اور بہت ہیں جو مرتد ہونے کے قریب ہو جائیں گے۔آپ کے الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے لئے ابتلاؤں کا ابھی خاتمہ نہیں ہوا بلکہ اور بڑے ابتلاء ہیں جن میں جماعت کو ہر قسم کی قربانیاں کرنی پڑیں گی۔پھر جا کر انعام حاصل ہوں گے لیکن موجودہ صورت میں تم ادھر اس عورت کے حوصلہ پر غور کرو۔جس کا پہلے میں نے ذکر کیا۔اور ادھر اپنی طرف دیکھو کہ اگر کسی کو تبلیغ کے لئے کہیں باہر بھیجنے کا منشاء ہو تو اس کی ماں بیوی اور رشتہ دار شور مچادیتے ہیں کہ اتنی دور نہ بھیجا جائے۔ہمارے لئے یہ مشکل ہے یہ تکلیف ہے۔چنانچہ ایک شخص کو ہم نے کہیں بھیجنے کا ارادہ کیا تو اس کے رشتہ داروں نے کہنا شروع کر دیا کہ اسے باہر نہ بھیجو۔اس کے علاوہ جو آپ کی مرضی ہے کرو۔دیکھو اُدھر تو ایک عورت اپنے