خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 398

خطبات محمود جلد (5) ۳۹۷ اگر کوئی ابتدائی حالت میں ہے تو اس کے بھی۔یہ نہیں کہ کوئی انسان کسی بڑے سے بڑے درجہ پر پہنچ کر کہہ دے کہ اب خدا تعالیٰ میرا رب نہیں رہا۔یعنی میں آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔لیکن وہ بڑھا نہیں سکتا۔بلکہ انسان کسی طبقہ اور کسی مقام پر چلا جائے۔اور کسی درجہ میں شامل ہو۔خدا اس کا رب ہی رہتا ہے اور کبھی خدا تعالیٰ یہ نہیں کہتا کہ اب فلاں انسان میری حد سے نکل گیا ہے۔کیونکہ انسان کسی حالت میں بھی ہو۔اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے ماتحت ہی رہے گا۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔الرحمن الرحيم مالك يوم الدين_خدا کی ربوبیت کوئی معمولی درجہ کی نہیں ہوگی بلکہ انسان ہر قدم جو ترقی کیلئے بڑھائے گا۔اس پر اسے نئے سرے سے رحمانیت کے فیوض حاصل ہوں گے اور پھر رحیمیت کے ماتحت انعام حاصل کرے گا یعنی ہر ترقی کرنے پر اور آگے بڑھنے کے لئے اسے نیا مصالح دیا جائے گا کہ لواب اس کے ذریعہ آگے بڑھو۔ابتداء میں ترقی کرنے کے لئے جو اسباب دئے جاتے ہیں وہ محض خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کا نتیجہ ہوتے ہیں وہ انسان کی کسی کوشش اور محنت کا نتیجہ نہیں ہوتے۔چنانچہ قریبا تمام موجد اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ہماری ایجاد میں آنی خیالات کی بناء پر ہوئی ہیں۔ہماری کوشش اور محنت کا ان میں دخل نہیں ہے۔مثلاً تار برقی کا موجد ہے وہ کہتا ہے کہ اس کے متعلق میرے دل میں خُدا نے یونہی ایک خیال ڈال دیا۔اور خیال کو لے کر جب میں نے کوشش کی تو یہ نتیجہ نکلا۔اسی طرح ایڈیسن ایک بہت بڑا موجد ہے۔اور کئی ہزار ایجاد اس نے کی ہے۔میں نے اسکا قول پڑھا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ میں نے کوئی ایک ایجاد بھی ایسی نہیں کی۔جو سوچ سوچ کر نکالی ہو۔بلکہ یونہی ایک تحریک ہوئی اور جب میں نے اس پر غور کیا۔تو ایک نئی چیز نکل آئی۔اسی طرح نیوٹن گذرا ہے۔اس نے کشش ثقل کا نتیجہ اخذ کیا ہے۔اس کو بھی اتفاقیہ ہی اس طرف توجہ پیدا ہوگئی اور پھر اس نے اسے علمی رنگ دے لیا تو تمام ترقیوں کی ابتداء اسی طرح ہوتی ہے کہ پہلے خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت کے ماتحت کچھ اسباب بغیر انسانی محنت اور کوشش کے پیدا ہو جاتے ہیں اور پھر رحیمیت کے ماتحت ان میں دن بدن ترقی ہوتی رہتی ہے۔یہ نہیں کہ انسان کسی بات کا خیال پہلے قائم کر لے اور پھر اس کی ایجاد میں کوشش کرے۔مثلاً تار برقی ہے۔اس کے متعلق یہ نہیں ہوا کہ اس کے موجد کو پہلے یہ خیال پیدا ہوا ہو کہ خبریں پہنچانے میں دیر لگتی اور تکلیف ہوتی ہے۔اس لئے کوئی آسان طریق نکالنا چاہیئے۔بلکہ یونہی اتفاقیہ طور پر اس کو تحریک ہوئی۔اور اس نے کوشش شروع کر دی۔اور بہت کم ایسی ایجادیں ہوتی ہیں جن کے ایجاد ہونے سے پہلے ان کا ارادہ کر لیا جاتا۔اور پھر اس میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔لیکن کثرت کے ساتھ وہی ایجادیں ہیں۔جن کی ابتداء اتفاقیہ طور پر ہوئی۔اور ان کی ایسی کثرت ہے کہ یہ بات کلیہ کہلانے کی مستحق