خطبات محمود (جلد 5) — Page 374
خطبات محمود جلد (5) مگر ان کو معلوم نہیں کہ جولوگ قرآن شریف کی وجہ سے گمراہ ہوتے ہیں ان کے لئے قرآن شریف میں کوئی ایسی ٹھو کر نہیں ہے جس کے باعث وہ گمراہ ہوتے ہیں۔بلکہ ان کی اپنی طبیعت کی تیرگی ان کے گمراہ ہونے کا سبب ہوتی ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ حضرت معاذ " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ کر دوسروں کو جا کر نماز پڑھاتے۔اور بہت لمبی سورتیں پڑھتے۔ایک روز آپ نے سورۃ بقرہ شروع کر دی۔ایک شخص نے نماز توڑ کر الگ پڑھ لی۔مسلمانوں نے کہا کہ یہ منافق ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ذکر ہوا۔آپ نے اس کو بلایا۔اس نے عرض کیا۔حضور وہ لمبی نماز پڑھتے ہیں۔میں تھکا ماندہ تھا۔مجھ سے ان کے ساتھ پڑھی نہیں جا سکتی۔یہ سُن کر آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا آپ نے معاذ کو فرمایا کہ تو فتان یعنی تو فتنہ باز ہے ا۔چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھا کرو۔بظاہر بڑی سورتیں پڑھنا نیکی ہے۔لیکن چونکہ اس سے فتنہ پیدا ہوتا ہے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو فتمان کہا۔حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے اصل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نوافل میں بڑی سورتیں پڑھتے ہیں۔اور اس نے اجتہاد میں غلطی کر کے فرائض میں بھی بڑی سورتیں پڑھنی شروع کر دیں۔یہ ایک غلطی تھی۔اور اس سے لوگوں کو ابتلا ہوتا تھا۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا۔اگر چہ فرائض میں بڑی سورتیں پڑھنا گناہ نہیں۔مگر غلطی ضرور تھی۔پھر یہ کوئی بداخلاقی نہیں بلکہ اجتہادی غلطی ہے۔لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کو فتمان قرار دیا۔اس سے سمجھ لینا چاہیے کہ جہاں بدا خلاقی ہو وہاں کیا کہنا چاہیئے۔بداخلاقی کے مقابلہ میں تو یہ غلطی کچھ بھی نہیں۔کیونکہ بد اخلاقی کے نتائج بہت بڑے ہیں۔اور خوش اخلاقی میں کچھ نقصان نہیں۔صرف اپنی زبان پر قابو کرنا ہے۔پھر ایک شخص کہتا ہے کہ قادیان میں ہر ایک شخص اپنے تئیں مسیح موعود سمجھتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ قادیان میں رہنا برکت کا موجب ہے۔مگر یہ نہیں کہ ہر ایک شخص قادیان میں رہنے کی وجہ سے دوسروں پر خواہ مخواہ فخر کرے۔پس اگر تم کسی سے گفتگو کر وتو یہ کہہ کر کہ میں قادیان میں رہنے والا ہوں اس کو جھڑ کو نہیں اور نہ اس طرح اس پر فضیلت جتلاؤ۔بلکہ دلائل سے بات چیت کر سکتے ہو تو کرو۔اور دلائل سے خاموش کرنا اور بات ہے۔میں کہتا ہوں قادیان کی رہائش اگر خوش خلقی نہیں سکھاتی تو پھر قادیان کی رہائش کوئی موجب فخر نہیں۔فخر تو اس بات کا ہے کہ تم میں اور دوسروں میں ایک نمایاں فرق ہو۔تمہارے اخلاق اطوار اعلیٰ ہوں۔قادیان کی رہائش کو برکت والی ثابت کرو۔اگر تم میں اکرام ضیف ہو۔تو لوگ خود بخود تم پر ٹو ہو جائیں گے۔اور تمہارے کہنے کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔لیکن اگر بے جا طور پر فخر کرو گے اور اپنے منہ سے بڑے بنو گے تو اس طرح دوسروں کے بخاری کتاب الاذان باب اذا طول الامام۔