خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 372

خطبات محمود جلد (5) فرمایا کہ وہ اعلیٰ درجہ اور مقام بھی حاصل کر لے گا۔غرض ادنیٰ سے ادنی درجہ ایمان کا عدل ہے۔اور سب فرائض کو بغیر کسی کمی بیشی کے ادا کرنا نجات کے لئے کافی ہے۔لیکن اگر اس میں کمی کرے یا اس میں نقص آ جائے تو ایمان میں نقص آجائے گا۔اس لئے ہر ایک مومن کو چاہئیے کہ اس بات کے لئے زور لگائے کہ اس درجہ سے ترقی کرے اور یہ نہ ہو کہ وہ اس درجہ سے گر جائے کیونکہ اس سے گرنا ایمان کا ضائع کرنا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے اس وقت تک کوئی مومن ہی نہیں بن سکتا جس وقت تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہی کچھ پسند نہ کرے جو اس کو اپنے نفس کے لئے پسند ہو۔یعنی اگر یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ نیکی کریں تو اس پر بھی فرض ہے کہ اپنے بھائی کے ساتھ وہ بھی عدل وانصاف کرے۔سو کوشش کرنا چاہئیے کہ کم از کم عدل پر تو انسان قائم ہو۔قرآن شریف میں آتا ہے لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔خدا نے کوئی ایسی مشکل بات نہیں رکھی جو انسان کے نفس کی طاقت سے زیادہ ہو۔پس اگر کوئی شخص اپنی طرف سے کوشش کرے تو عادل ہو سکتا ہے۔بعض لوگ کوشش ہی نہیں کرتے۔اور اس کا نام فطرت رکھتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ اسی طرح کرنے پر مجبور ہیں۔اور یہ غلط ہے۔کیونکہ وہ ایک بری عادت کا نام فطرت رکھتے ہیں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اعلی طاقت اور نیک فطرت دی ہے اور قرآن کریم اس بات سے بھرا پڑا ہے۔پس انسان کی فطرت کامل ہے۔ہاں جو اس سے کام نہیں لیتا۔یا اُلٹے رستہ پر ڈال کر خراب کر لیتا ہے اس کا اپنا قصور ہے۔بہت سے لوگ سخت زبانی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری فطرت ہی اس قسم کی واقع ہوئی ہے حالانکہ یہ درست نہیں ہے اور وہ اپنی عادت کو اگر درست کرنے کی کوشش کریں تو کر سکتے ہیں کیونکہ یہ بات ان کے اپنے اختیار میں ہے۔اور سخت کلامی کی عادت انہوں نے خود پیدا کی ہوئی ہے۔اور جو عادت خود پیدا کی ہو وہ دُور بھی کی جاسکتی ہے۔خدا نے تو انسان کو اعلیٰ درجہ کی فطرت پر پیدا کیا ہے۔پس اگر لوگ خود اس کو مسخ کر لیتے ہیں تو یہ کیوں ممکن نہیں کہ اپنی حالت کو درست بھی کر لیں۔پس کم سے کم عدل کی طرف توجہ ہو۔میں قادیان کے رہنے والوں کو بالخصوص نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بہت زیادہ عدل کی طرف متوجہ ہوں۔بعض لوگوں کے میرے پاس خطوط آئے ہیں کہ قادیان کے بعض لوگ عدل سے کام نہیں لیتے۔اس میں شک نہیں کہ بعض باتیں غلط ہیں مگر بعض درست بھی ہیں۔بعض تو اس قسم کی باتیں ہیں کہ مجبوراً کرنی پڑتی ہیں۔مجھ کولکھا گیا ہے کہ جلسہ کے موقعہ پر یہاں کے بعض لوگ خوش خلقی سے پیش نہیں آئے۔بعض اوقات ایسا ہوتا ہے۔کہ کسی سے جو بات کہی جائے وہ ا۔البقرہ:۲۵۷۔