خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 349

خطبات محمود جلد (5) ۳۴۹ آیت کن پر چسپاں ہوتی ہے۔آیا ہم ہیں وہ لوگ جو اپنی مسجدوں میں کسی کو عبادت کرنے سے روکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری مسجدوں میں آکر کوئی نماز نہ پڑھے یا غیر احمدی ہیں جو احمدیوں کے لئے مسجدوں میں عبادت کرنے کی ممانعت کرتے ہیں۔جو اس طرح کرتے ہوں گے یعنی اپنی مسجدوں میں نماز پڑھنے سے روکتے ہوں گے اُن پر یہ آیت چسپاں ہوگی۔ہم پر تو چسپاں نہیں ہو سکتی کیونکہ ہماری مسجدوں میں ہر ایک شخص خواہ ہمیں کا فر ہی کہتا ہو یا ہمارے قتل کا فتویٰ ہی دیتا ہو یا ہمارا مال غصب کرنا بھی جائز جانتا ہو نماز پڑھ سکتا ہے ہم ان میں سے کسی کو منع نہیں کریں گے وہ آئیں اور ہماری مسجدوں میں نماز پڑھیں لیکن دیکھو غیر احمدی ہم سے کیا سلوک کر رہے ہیں۔کیا اُن کی بعض مسجدوں کے دروازوں پر نہیں لکھا ہوتا کہ اس مسجد میں کسی مرزائی (احمدی ) کو داخل ہونے کی اجازت نہیں۔پھر کیا اُن کے علماء کی طرف سے یہ فتوے شائع نہیں ہوئے کہ احمدی ہماری مسجدوں میں آکر نماز نہیں پڑھ سکتے۔پس یہی لوگ ہیں جو مسجدوں میں نماز پڑھنے سے ہم کو روکتے ہیں اس لئے وہ اس آیت ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ کے ماتحت اظلم قرار پائے اور اس آیت نے فیصلہ کر دیا ہے کہ جو شخص مساجد اللہ سے روکتا ہے وہ کافر ہے۔پس اس آیت نے ہمیں بتادیا کہ یقینی طور پر غیر احمدی جھوٹے ہیں اور ہم بچے ہیں۔نیز یہ بھی فیصلہ ہو گیا کہ ان دونوں گروہوں میں سے جو اسلام کے مدعی ہیں کون حق پر ہے۔آج ہمارے نئے مخالف (غیر مبایعین ) ہم کو کہتے ہیں کہ تعلیم یافتہ طبقہ اس قسم کا ہے کہ وہ ہمیں کا فرنہیں کہتا۔پس جب وہ لوگ ہمیں کافر نہیں کہتے تو ہم بھی ان کو حضرت مسیح موعود کے ارشاد کے ماتحت کافر نہیں کہہ سکتے۔ہم کہتے ہیں اگر کوئی ایسے لوگ ہیں تو ان کو تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ان کا فرض ہے کہ وہ کم از کم دو سو مولویوں کے نام بنام کی فہرست بنا کر جنہوں نے ہمیں کا فر کہا ہے شائع کر دیں کہ ہم ان مولویوں کو کافر سمجھتے ہیں۔اور پھر وہ خدا کے ان تازہ بتازہ نشانات کو جو ہمیں خدا کی طرف سے ملے ہیں ان کو قبول کریں اور ان کے دل میں کوئی شعبہ نفاق نہ ہو۔جب وہ ایسا کریں گے تو ہم بھی ان کو مسلمان کہیں گے۔اب یہ ایسی ہی بات ہے جیسی کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کے متعلق فرمائی ہے کہ اگر خدا کا بیٹا ہو تو اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تم ان سے کہہ دو کہ میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرتا۔گویا نہ خدا کا کوئی بیٹا ہے نہ اس کی عبادت ہو سکتی ہے۔اسی طرح نہ کوئی ایسا غیر احمدی شخص ہے جس نے حضرت صاحب کی اس شرط کو پورا کیا ہو اور نہ ہم کسی کو مسلمان کہہ سکتے کیونکہ اس قسم کا آدمی جوان مولویوں کو کافر کہے اور پھر حضرت مسیح موعود کے تازہ بتازہ نشانات کو مانے اور پھر اس میں کوئی شعبہ نفاق بھی نہ ہو تو وہ پھر غیر احمدی نہیں رہ سکتا وہ تو ضرور حضرت مسیح موعود کی جماعت میں داخل ہو جائے گا لیکن اگر اس نے بیعت نہیں کی تو معلوم ہوا کہ اس کے دل میں شعبہ نفاق باقی ہے۔ہم کہتے ہیں کہ اس قسم کی کوئی مثال نہیں پائی جاتی مگر غیر مبایعین کہتے ہیں کہ پائی جاتی ہے