خطبات محمود (جلد 5) — Page 305
خطبات محمود جلد (5) ۳۰۵ معنے ہو سکتے ہیں۔ایک تو یہ کہ کوئی کہہ دے کہ آپ اندر نہ آئیں اس وقت فرصت نہیں۔دوسرے یہ کہ کوئی جواب ہی نہ آئے۔ان دونوں صورتوں میں واپس لوٹ جانا چاہیئے۔پھر سلام کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی کثرت کرنی چاہئیے۔کیوں۔اسلئے کہ اس طرح آپس میں محبت پیدا ہوگی۔جب کوئی دوسرے کے لئے سلامتی کی دُعا کرتا ہے تو ضرور ہے کہ اس کے دل میں محبت ہو۔اور جوں جوں وہ زیادہ عام کرے وہ محبت بھی بڑھتی جائے گی۔آجکل تو بہت سے لوگ ایسے ہیں جو السلام علیکم کے معنے ہی نہیں سمجھتے ایسے لوگوں کے دلوں میں اگر ایک دوسرے کی محبت پیدا نہ ہو تو اور بات ہے لیکن جو سمجھتے ہیں ان میں ضرور محبت پیدا ہوتی اور بڑھتی جاتی ہے اور جب ایک انسان دوسرے کے لئے دُعا کرے گا تو خود اس کے لئے بھی اور دوسرے کے لئے بھی وہ دعا بہت سے فوائد اور برکات کا موجب ہوگی۔اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے بہت محبت اور پیار کرتا ہے اس لئے جو کوئی اس کی مخلوق سے محبت کرتا ہے اس سے وہ بھی محبت کرتا ہے۔تو ایک دوسرے کو کثرت سے سلام کہنے کی وجہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی کہ تمہاری آپس میں محبت ہوگی اور آپس کے تعلقات درست ہوں گے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہیں ایمان حاصل ہو گا اور جب ایمان حاصل ہوگا تو جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔اس سے ان لوگوں کو سبق لینا چاہیے جو اپنا کام یہی سمجھتے ہیں کہ دوسروں سے لڑیں اور ایک دوسرے کو لڑائیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اس وقت تک جنت میں نہیں جا سکتا جب تک کہ اس میں ایمان نہ ہو اور ایمان اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ آپس میں محبت نہ ہو اور محبت پیدا کرنے کا طریق ایک دوسرے کو کثرت سے سلام کہنا ہے۔لڑائی فساد سے ایمان کو بہت صدمہ پہنچتا ہے۔بہت سے خاندان ایسے ہیں کہ باوجود ایک مذہب کو سچا سمجھنے کے دوسروں کی دشمنی اور عداوت کی وجہ سے اسے چھوڑ دیتے ہیں۔میں نے اس فتنہ پر غور کیا ہے جو ہماری جماعت میں پیدا ہوا ہے۔اس میں شامل ہونے والے وہی لوگ ہیں جن کو ذاتی عداوتیں اور رنجشیں تھیں۔ایک آدمی کی نسبت تو مجھے خوب معلوم ہے اُس نے سمجھا ہو ا تھا کہ ہمارے خاندان نے کسی موقع پر اس کے ساتھ ہمدردی نہیں کی تھی۔میں اُس وقت جبکہ اسے وہ واقعہ پیش آیا گھر موجود نہیں تھا کہیں گیا ہو ا تھا واپس آکر میں نے اس شخص کو ہمدردی کا خط لکھا جس کا اُس نے یہ جواب دیا کہ آپ نے میرے ساتھ بہت ہمدردی کی ہے لیکن فلاں فلاں نے نہیں کی۔ان کی یہ بات مجھے مرنے تک نہیں بھولے گی۔افسوس کہ یہ خط محفوظ نہ رکھا گیا ورنہ آج خوب کام دیتا۔ایک اور نے کہا کہ اگر اور کوئی خلیفہ ہو ا تو اُس کی تو ہم بیعت کر لیں گے لیکن میاں محمود کی بیعت تو خواہ کچھ ہی ہونہیں کریں گے۔یہ تو کل کی باتیں ہیں بنی اسرائیل کو دیکھو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی لئے نہ مانا کہ یہ ہم