خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 18

۱۸ 3 خطبات محمود جلد (5) دعوت الی اللہ رضائے الہی کا موجب ہے (فرموده ۲۸ /جنوری ۱۹۱۶ء) نوٹ :- انچارج شعبہ زودنویسی کی طرف سے اس خطبہ کی اشاعت پر یہ نوٹ شائع ہوا کہ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ایک غیر مطبوعہ خطبہ جو حضور نے آج سے انچاس برس قبل ۱۹۱۶ ء میں ارشادفرمایا تھا پرانے کاغذات میں سے ملا ہے۔جو حضرت حافظ عبید اللہ صاحب شہید مبلغ ماریشس نے قلمبند فرمایا تھا۔یہ خطبہ صیغہ زود نویسی ربوہ اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے۔حضور نے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیت تلاوت فرمائی۔وَلْتَكُنْ مِنْكُمُ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ! اور پھر فرما یا کھوئی ہوئی چیز انسان کو جب ملے وہ بہت خوش ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص کسی کی کوئی چیز ڈھونڈ کر لائے تو اسے ایسی خوشی ہوتی ہے کہ وہ ڈھونڈ کر لانے والے کو انعام دیتا ہے۔پس کھوئی ہوئی چیز پر طبعا خوشی پیدا ہوتی ہے۔حضرت مسیح ناصری نے گناہ کے بخشنے کے متعلق یہ مثال بیان فرمائی ہے۔! کہ ایک شخص تھا اس کے کچھ بیٹے تھے اس کا بہت مال تھا۔اس نے وہ مال سب بیٹوں میں تقسیم کر دیا اور کہا کہ جاؤ کھاؤ پیو اور اس روپیہ سے تجارت کرو۔باقی بیٹے تو مال کما کر لائے مگر ایک نے وہ سب مال کھا پی لیا اور بجائے کما کر لانے کے جو اصل تھا وہ بھی ضائع کر دیا۔اور آوارہ ہو گیا۔آخر ایک جگہ جا کر اس نے ملازمت کر لی۔ایک دن اسے خیال آیا کہ میں جو یہاں مصیبت میں پڑا ہوا ہوں اور میری یہ حالت ہوگئی ہے میں اپنے باپ ہی کے پاس کیوں نہ چلا جاؤں۔کیونکہ جیسا میں یہاں کھاتا ہوں ایسا تو میرے باپ کے غلاموں اور ان جانوروں کو بھی مل جاتا ہے جو اس کے پاس رہتے ہیں۔جب وہ واپس آیا تو اپنے باپ کے نوکروں کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ایک نوکر نے جا کر اس کے باپ کو خبر کی کہ تمہارا بیٹا جو چلا گیا تھا فلاں جگہ شرمندہ ہوکر ه سوره آل عمران آیت ۱۰۵۔