خطبات محمود (جلد 5) — Page 257
خطبات محمود جلد (5) ۲۵۷ غرض انسانوں میں سے ایسے انسان ہوئے ہیں کہ جن کو اتنے بڑے درجے حاصل ہوئے اور جن کے قلب میں اتنی صفائی ہوگئی تھی کہ ان کو لوگوں نے غلطی سے خدا یا خدا کے بیٹے یا خدا کے شریک سمجھ لیا۔گویا انسانوں نے اپنے میں اور ان برگزیدہ انسانوں میں اتنا فرق سمجھ لیا کہ گویا ہم عابد ہیں اور وہ معبود۔حالانکہ وہ ان جیسے ہی ہوتے تھے۔ایسی ہی ان کی طاقتیں بھی ہوتی تھیں جیسی کہ ان کو معبود ماننے والوں میں ہوتی تھیں۔مگر جب انھوں نے اپنی طاقتوں سے عمدگی کے ساتھ کام لیا تو دوسرے جنھوں نے ان طاقتوں کو بیکا ر چھوڑے رکھا ان کو خدا یا خدا کے اوتار اور خدا کے بیٹے سمجھنے لگ گئے۔اس کے مقابلہ میں ایک دوسری مخلوق بھی ہے۔وہ اپنے مقام سے اتنی گری اتنی گری کہ اس کو انسان کہنا۔اس کی طرف منسوب ہونا۔اس سے دوستی رکھنا۔اس کے نام رکھنا بھی کوئی پسند نہیں کرتا۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ اتنی نیچے گری کہ جس طرح دور کی چیز بہت چھوٹی اور حقیر معلوم ہوتی ہے اسی طرح وہ چونکہ انسانیت سے گر کر بہت نیچے اور دُور ہو گئے۔اس لئے انسانوں کی نظروں میں حقیر دکھائی دینے لگے۔جو اوپر چڑھے وہ تو ان سے بلند ہوئے کہ ان کو انہوں نے اپنے میں سے خارج سمجھ کر خدا اور خدا کے اوتار بنالیا۔لیکن جو نیچے گرے ان کی ذلت اور ادنی ترین حالت کی وجہ سے لوگوں نے ان کو انسان بھی قرار نہ دیا۔اور واقعی وہ انسان کہلانے کے مستحق ہی نہ تھے۔خدا تعالیٰ نے بھی ان کو انسان نہیں کہا۔بلکہ بندر اور سؤر قرار دیا ہے گویا خدا تعالیٰ نے اس بات کی تصدیق فرما دی ہے کہ وہ انسان جو گر نے والوں کو ان کی دوری اور بعد کی وجہ سے اپنے میں شامل کرنا پسند نہیں کرتے۔وہ ٹھیک کرتے ہیں۔واقعی ایسے لوگ ان میں سے نہیں بلکہ بندر اور سور ہیں۔تو یہ مدارج ہیں۔بعض اونچے ہیں اور بعض نیچے اور بعض درمیانی۔ان کے حصول کے لئے خدا تعالیٰ نے انسان میں طاقتیں بھی رکھ دی ہیں بعض طاقتیں انسان کو اوپر لے جانے والی ہیں اور بعض نیچے۔لیکن نیچے لے جانیوالی طاقتیں کوئی علیحدہ نہیں ہوتیں۔بلکہ وہ جو اوپر کھینچنے والی ہوتی ہیں انہیں کے عدم کا نام نیچے لے جانے والی طاقتیں ہے۔جس طرح اگر انجن سے سٹیم نکال لی جائے تو وہ ایک ڈھلوان جگہ سے خود بخود نیچے آجاتا ہے۔اس کے نیچے آنے کا باعث کوئی اور طاقت نہیں ہوتی بلکہ سٹیم کا نہ ہونا ہی اس کے نیچے آنے کا باعث ہوتا ہے