خطبات محمود (جلد 5) — Page 13
خطبات محمود جلد (5) فیصلہ کرتا ہے۔مثلاً اگر بیٹھے بیٹھے اس کے خیال میں یہ بات آجائے کہ فلاں آدمی کو قتل کر دینا ایک بہت عمدہ بات ہے تو اب اس کے لئے اس کے قتل کے جواز کا فتویٰ مل گیا۔کیونکہ کوئی شریعت اس کے لئے نہیں ہے جو اسے اس بات سے رو کے اور اس کی حد بندی کرے لیکن اگر کوئی کسی کتاب کا ماننے والا ہو تو اس کے یہ کہنے پر کہ میں فلاں کتاب کو مانتا ہوں فوراً پتہ لگ جائے گا کہ اس کے خیالات کیا اور کس حد کے اندر ہونگے اور اگر کوئی کسی کتاب کو بھی نہ مانتا ہو تو اس کے خیالات کا بالکل کوئی پتہ نہیں لگے گا اسلام چونکہ ایسی باتوں کو سخت ناپسند کرتا ہے جن میں کوئی حد بندی نہ ہو اور نہیں چاہتا کہ مسلمان ایسے لوگوں سے تعلق رکھیں جن کے حالات اور خیالات کا انہیں پتہ نہ ہو اس لئے اس قسم کے لوگوں کے ساتھ اسلام نے تعلق رکھنے کی اجازت نہیں دی۔ہاں جن لوگوں نے اپنے آپ کو کسی کتاب کے ماتحت کر دیا ہے اور اس کتاب کے ذریعہ ان کے خیالات کی حد بندی ہوگئی ہے ان سے اجازت دے دی ہے کیونکہ ایک یہودی ایک عیسائی اور ہندو کے خیالات اور حالات کا دائرہ معلوم ہوتا ہے اور آسانی سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی ہر ایک بات اس دائرہ کے اندراندر ہوگی لیکن ایک ایسا شخص جو کسی کتاب کا قائل ہی نہیں۔اس کے خیالات کے دائرہ کا کوئی علم نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اسکے لئے کوئی دائرہ مقرر نہیں ہوتا بلکہ وہ ہر وقت خود نیا دائرہ تجویز کرتا ہے۔اور ایسا شخص معاملات میں بہت خطرناک ہوتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ بعض لوگ کہہ دیں گے کہ ایک مسلمان کہلانے والا بھی اپنے دائرے کو اس قدر وسیع کرتا ہے کہ سب کچھ ہی اس کے اندر آ جاتا ہے لیکن ہم کہتے ہیں کہ ایسا شاذ و نادر ہوتا ہے ورنہ اکثر ایک مذہب کے ماننے والے کا حال اس کے اپنے اقرار سے معلوم ہو جاتا ہے اور ایسے شخص کی بدیاں بھی محدود ہی ہوتی ہیں تو اسلام نے اس بات کو مدنظر رکھ کر اہل کتاب کے ساتھ تو اس قسم کے تعلقات رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔لیکن غیر اہل کتاب کے ساتھ نہیں دی اگر کوئی مسلمان ایک عیسائی یا یہودی یا ہندو عورت سے شادی کرتا ہے تو وہ اس کی نسبت جانتا ہے کہ یہ کچھ اس کے خیالات ہوں گے اور اسطرح کرے گی۔مثلاً یہ کہ ان مذاہب میں جھوٹ بولنا نا جائز ہے اس لئے اگر وہ اپنے مذہب کی پابند ہوگی تو اس سے پر ہیز کرے گی لیکن اگر کوئی دہر یہ یا بر ہموعورت ہو اور وہ جھوٹ بولے تو اس کا مذہب اُسے اس سے نہیں روکیگا کیونکہ در حقیقت اسکا مذہب اس کی اپنی عقل ہے اور وہ