خطبات محمود (جلد 5) — Page 218
خطبات محمود جلد (5) ۲۱۸ ہوئے کہ ہمیں یوں کرنا چاہیئے اس طرح نہیں کر سکتے۔اور اس سے اپنے دل میں کڑھتے بھی ہیں۔افسوس بھی کرتے ہیں مگر کرتے وہی ہیں جو انہیں نہیں کرنا چاہئیے یہ اعمال کے زنگ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ان کا دل خوب محسوس کرتا ہے مگر کشش برائی کی طرف ہی کرتا ہے۔اس وقت یہی علاج ہے کہ زنگ کو دور کیا جائے اور پاؤں کی زنجیروں کے توڑنے اور ہاتھوں کی ہتھکڑیوں کے کاٹنے اور گلے کے طوقوں کو اتارنے کی کوشش کی جائے۔جب یہ ہو جائے گا تو پھر ایمان نفع اور فائدہ دیگا اور یہ سب کچھ دعا کے ذریعہ ہوسکتا ہے۔ہماری جماعت میں جو ایسے لوگ ہیں ان کو اس طرف توجہ کرنی چاہئیے اور اس کا یہی علاج ہے کہ انہیں جس قدر دعا کرنے کی توفیق ملے۔اُسے اسی کے لئے خرچ کریں لیکن اگر دل قائم نہ ہو تو زبان سے لفظ نکالنے کی جس قدر توفیق ملے اسی قدر نکالیں۔اگر لفظ بھی نہ نکال سکتے ہوں تو خیالات کے ذریعہ ہی دعا کی طرف متوجہ رہیں۔زبان سے کہنا اور بات ہوتی ہے اور خیالات کرنا اور۔اگر دعا کرنے سے کسی کا قلب منکر ہو۔اور زبان بھی انکار کرتی ہو کہ لفظ نکالے تو اسے اس طرف خیالات دوڑانے چاہئیں۔اگر چہ خیالات بہت ہی ادنے ہوتے ہیں جس طرح ایک بہت مریل سا گھوڑا ہو۔جو چاہے اسکے اوپر چڑھ بیٹھے۔یہی حال خیالات کا ہوتا ہے۔لیکن انسان کم از کم خیالات کے ذریعہ تو دعا کی طرف متوجہ ہو۔اس سے آہستہ آہستہ اوپر ترقی شروع ہو جاتی ہے۔پہلے زمانہ میں مجرموں کو سزا دینے کا یہ طریق ہوتا تھا کہ کسی بڑے اونچے مینار پر قید کر دیتے تھے۔ایسے قیدیوں کو جو لوگ چھڑانا چاہتے۔وہ اتنی اونچی جگہ کوئی موٹا رسہ تو پھینک نہ سکتے جس کے ذریعہ وہ نیچے اُتر آئے۔اس لئے اس طرح کرتے کہ ایک باریک دھاگے کا گولہ تیر کے ساتھ باندھتے اور اسے کمان کے ذریعہ اوپر پہنچاتے۔اس طرح دھاگہ اس قیدی تک پہنچ جا تا۔وہ اس کا ایک سرا خود پکڑتا اور باقی کو نیچے گرا دیتا۔پھر وہ اس کے ساتھ ذرا موٹا دھاگہ باندھ دیتے جسے وہ اوپر کھینچ لیتا۔اس طرح کرتے کرتے آخر کار وہ موٹا رستہ اس تک پہنچا دیتے تھے اور وہ نیچے اتر آتا تھا۔یہ ترکیب اس لئے ایجاد کی گئی کہ کمزور چیز بڑا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔یہی حال دعا اور اعمال میں ہوتا ہے وہ انسان جو زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتا اسے چاہیے کہ پہلے تھوڑا اٹھائے اور جب اُسے