خطبات محمود (جلد 5) — Page 217
خطبات محمود جلد (5) ۲۱۷ ترکیبوں سے واقف نہیں ہیں اور نہ ہی وہ اس کی حاجت سمجھتے ہیں۔ان کے لئے دنیا کے دولت۔مال۔عہدہ۔اور خطاب ہی سب کچھ ہیں۔اس لئے ان کو نہ حاجت ہے نہ ان کے پاس سامان ہیں اور نہ ہی ترکیب استعمال جانتے ہیں۔اس لئے وہ ایک حد تک معذور بھی ہیں۔لیکن جن کے لئے خدا تعالیٰ نے سب ذرائع مہیا کر دیئے ہیں اور سب قسم کے بند کھول دیئے ہیں۔وہ اگر دعائیں کرنے میں ستی کریں تو کس قدر افسوس کی بات ہے۔میری ان خطبات سے یہ مراد نہ تھی کہ میں کوئی علمی مضمون بیان کروں۔بلکہ یہ تھی کہ اپنی جماعت کو اس طرف متوجہ کروں اور دعا کرنے کی عادت ڈالوں بہت لوگ ہیں جو دعاؤں میں سستی کرتے ہیں۔( بہت سے مراد ایک کثیر حصہ جماعت مراد نہیں بلکہ یہ کہ ایسے لوگ بھی تھوڑے نہیں ) ان کے لئے یہ کافی ہے کہ کسی سے سلسلہ کے متعلق بحث مباحثہ کر لیا جائے۔مگر وہ اصلاح جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیدا کرنا چاہتے تھے۔اس سے غافل ہیں۔اس قسم کے جوش جن میں محض زبان ہی زبان کام کر رہی ہو۔کوئی نفع نہیں دیتے۔نفع اسی سے ہوتا ہے کہ انسان اپنے تمام جوارح پر اللہ تعالیٰ کے احکام جاری کرے اور اس کی محبت میں گداز ہو جائے اور اس کی الفت میں گرد بن جائے۔اگر کوئی شخص یہ نہیں کرتا تو حکم عدولی کرتا ہے۔تو صرف زبان سے اقرار کر لینا نہ صرف کوئی فائدہ ہی نہیں دیتا بلکہ بہت زیادہ نقصان بھی پہنچاتا ہے۔پھر ہو سکتا ہے کہ کوئی سچے دل سے اقرار کرتا ہومگر اسے عمل کی توفیق نہ ملتی ہو۔تو یہ اس کے پچھلے گناہوں کے زنگ کی وجہ سے ہوگا۔جس طرح ایک شخص بیڑیوں سے جکڑا ہوا ہو۔اور اس کے کھانے کے لئے شیر آ رہا ہو۔تو کوئی یہ نہیں کہے گا کہ اس کے دل میں شیر کا خوف نہیں ہے اس لئے خاموش بیٹھا ہے اور بھاگتا نہیں۔کیونکہ وہ تو بھاگ ہی نہیں سکتا۔اگر وہ بھاگ سکتا تو ضرور بھاگ کر جان بچانے کی کوشش کرتا۔وہ جانتا ہے کہ خونخوار شیر مجھے کھا جائے گا۔مگر چونکہ اس کے پاؤں بندھے ہوئے ہیں اس لئے بھاگنے کی طاقت ہی نہیں رکھتا۔اسی طرح بعض لوگوں کو ایمان تو حاصل ہوتا ہے لیکن ان کے پچھلے گناہ اور نقص اعمال کے راستہ میں حائل ہو جاتے ہیں اور ان کے پاؤں میں بیٹریوں کی طرح ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیوں کی طرح اور ان کے گلے میں طوقوں کی طرح پڑے ہوتے ہیں وہ اس بات کو جانتے