خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 191

خطبات محمود جلد (5) ۱۹۱ جو بندوں کو بندوں سے ہوتی ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ محبت کی بنیاد تعلق پر ہوتی ہے۔چونکہ بندوں کا ایک دوسرے کے ساتھ ابتداء کے لحاظ سے بھی اور انتہاء کے لحاظ سے بھی عارضی تعلق ہوتا ہے اس لئے ان کی محبت خواہ کتنی ہی زیادہ ہو۔پھر بھی خدا کی محبت سے مقابلہ نہیں کر سکتی۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی محبت دائمی اور ہمیشہ کے لئے ہے۔ایک جنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے۔کفار کو شکست ہو چکی تھی۔صحابہ قیدیوں کو۔مال اسباب وغیرہ جمع کر رہے تھے پکڑ دھکڑ شروع تھی کہ ایک عورت بھاگی بھاگی پھرتی نظر آئی۔وہ جس بچہ کو دیکھتی اُسے پکڑ کر پیار کرتی اور پھر دیوانہ وار آگے چل پڑتی۔اسی طرح چلتے چلتے اُسے اپنا بچپل گیا۔جسے اس نے پکڑ کر چھاتی سے لگالیا۔اور آرام سے بیٹھ گئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا کیا تم نے اس عورت کو دیکھا۔اپنے بچہ کی محبت سے کس طرح بے تاب ہو رہی تھی۔اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے اس سے بھی زیادہ محبت اور پیار ہے۔تو خدا تعالیٰ کی محبت انسانوں کی محبت سے بہت زیادہ ہے پس جس طرح اگر کوئی کسی انسان سے محبت کرتا ہے تو اس کے محب کے دل میں اس کی بھی محبت اور الفت پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بندوں پر اگر کوئی احسان مروت اور رحم کرے تو اللہ تعالیٰ بھی اس پر رحم کرتا ہے تو دعاؤں کی قبولیت کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ جب کوئی اہم معاملہ در پیش ہو اور اس کے لئے دعا کرنی ہو تو اس وقت کسی ایسے انسان کے جو کسی قسم کے دُکھ اور تکلیف میں ہو دکھ کو دور کیا جائے یا دور کرنے کی کوشش کی جائے۔جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کے کسی بندے سے ایسا سلوک کرے گا تو اس کی وجہ سے خدا تعالیٰ اس کے دکھ کو دور کر دے گا۔کیونکہ اس نے اس کے ایک بندہ کا دکھ دور کیا تھا یہ بہت اعلیٰ طریق ہے۔دعا کرنے سے پہلے کوئی ایسا شخص تلاش کرنا چاہئیے جو کسی مصیبت اور تکلیف میں ہو۔خواہ وہ تکلیف جانی ہو یا مالی عزت کی ہو یا آبرو کی کسی قسم کی ہو۔تم کوشش کرو کہ دور ہو جائے آگے دور ہو یا نہ ہو اس کے تم ذمہ دار نہیں ہو تم اپنی ہمت اور کوشش کے مطابق زور لگا دو۔اس کے بعد خدا تعالیٰ کے حضور جاؤ اور جا کر اپنے مدعا کے لئے دعا کرو۔اس طریق کی دعا بہت حد تک قبول ہو جائے گی۔تم خدا تعالیٰ کے کسی بندے کی تکلیف کو دور کرنے کے لئے جس قدر توجہ کرو گے۔خدا تعالیٰ تمہاری تکلیف دور کرنے کے لئے اس سے بہت زیادہ توجہ فرمائے گا۔ا بخاری کتاب الادب باب رحمۃ الولد