خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 173

۱۷۳ 23 خطبات محمود جلد (5) قبولیت دعا کے طریق (فرموده ۲۱ جولائی ۱۹۱۶ء) تشہد وتعو ذوسورہ فاتحہ اور مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کے بعد فرمایا:- وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَلَى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرة : ۱۸۷) فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں بیان کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو میں اس امر کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ انسان کو دُعا کس رنگ اور کس طریق میں کرنی چاہئیے جس کے نتیجہ میں قبولیت کا وہ زیادہ امیدوار ہو۔اور وہ کیا شرائط ہونے چاہئیں۔جن کے مطابق کی ہوئی دعا خدا تعالیٰ کے حضور قبول ہو جائے۔یوں تو اللہ تعالیٰ بادشاہ ہے اور ہم اس کی رعایا کسی کی درخواست اور عرضی کو قبول کرنا بادشاہ کا اپنا کام ہے رعایا کا نہ یہ فرض ہے نہ کام ہے۔اور نہ حق ہے کہ بادشاہ یا حاکم ضرور ہی اس کی درخواست کو قبول کر لے۔اگر وہ ہر بات کو قبول کر لے اور ضرور قبول کر لے تو گویا وہ نوکر ہوا اور رعایا آقا۔وہ خادم ہوا اور رعا یا مخدوم۔کیونکہ جو کسی کی ہر ایک بات ماننے کے لئے مجبور ہوتا ہے وہ آقا نہیں بلکہ خادم ہوتا ہے۔آقا خادم کی بات ماننے کے لئے مجبور نہیں ہوتا۔بلکہ مختار ہوتا ہے اس کے اختیار میں ہوتا ہے کہ چاہے تو قبول کرے اس کے لئے وہ مجبور نہیں ہوتا۔اور چاہے تو رد کر دے اس سے اس پر کوئی الزام نہیں آتا۔چونکہ خدا تعالیٰ نہ صرف آتا ہے اور ہم خادم بلکہ وہ مالک ہے اور ہم غلام۔پھر وہ خالق ہے اور ہم مخلوق تو جبکہ خادم اور آقا کا تعلق بھی ایسا نازک ہوتا ہے کہ خادم کو کبھی یہ امید نہیں ہو سکتی کہ