خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 124

خطبات محمود جلد (5) ۱۲۴ یہ عیب ہے۔اور فلاں میں یہ عیب۔تو گویا صرف وہی ایک سب جماعت میں نیک رہا اور باقی سب عیب دار ٹھہرے۔اس سے میں پوچھتا ہوں کہ کیا حضرت مرزا صاحب اسی ایک کو پیدا کرنے کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔اور ان کی اس قدر کوشش اور سعی کا نتیجہ صرف وہی ایک شخص نکلا۔ہر گز نہیں۔وہ اپنی قدر کو دیکھے اور اپنے طرز عمل پر غور کرے کہ کس طرف جارہا ہے۔اور اس کا ایسا کہنا گو یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جھوٹا اور نا کام کہنا ہے۔اور وہ اپنے عمل سے احمدیت سے خارج ہو جاتا ہے۔گو وہ اپنے آپ کو احمدی کہے لیکن چونکہ وہ خدا کے نبی کی پاک جماعت پر حملہ کرتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس جماعت میں پھوٹ پڑتی ہے اس لئے وہ احمدی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے دوسرے پر الزام لگانے سے بچنے کے لئے مسلمانوں کو کیا ہی عجیب گر بتا دیا تھا وَفِي الْأَرْضِ أَيتُ لِلْمُوْقِنِينَ۔وَفِي أنفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ کہ تم اپنے نفسوں میں ہی دیکھو۔کیا تم نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی۔تم سے کبھی بھول چوک نہیں ہوئی۔جب تم سے خود بھی ایسا ہو جاتا ہے۔تو پھر جب کوئی دوسرا اس طرح کرے تو اس پر کیوں الزام لگاتے ہو۔واقعہ میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے جو کبھی بھولا نہ بھولا نہ ہو۔اور باتیں تو الگ رہیں۔صبح سے اس وقت تک تم میں سے ہر ایک شخص کو جو جو واقعات پیش آئے انہیں کو اگر کوئی بیان کرنے لگے۔تو ضرور ہے کہ بعض باتیں بھول جائے۔اور دوسرے یاد دلا دیں۔اگر کوئی ایسے حافظہ والا ہے جو پورے پورے واقعات بتا سکتا ہے تو اُٹھ کر بتائے وہی شخص جو ایک دوسرے کو جھوٹا کہتے تھے اٹھ کر بتا دیں لیکن وہ سُن لیں کہ ضرور غلطی کریں گے مگر وہ کہہ دیں گے کہ انسان ہیں غلطی ہو گئی ہے۔میں کہتا ہوں جب تم انسان ہو۔تو کیا وہ انسان نہیں ہیں۔پھر انہیں کیوں جھوٹا کہتے ہوا ایسا کرنے والے غلطی کرتے ہیں غلطی نہیں بلکہ بیوقوفی کرتے ہیں۔میں نے بیوقوفی اس لئے کہا ہے کہ ان کی اس کاروائی سے شیطان جماعت کی تباہی کا ہتھیار چلاتا ہے ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے گر پر عمل کریں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم اپنی جانوں کو دیکھو کیا تم اندھے ہو گئے کیا یہی غلطیاں تم نہیں کرتے ہو اور اپنے آپ کو جھوٹا کہلانا پسند نہیں کرتے۔مگر دوسرے جب ایسا کریں تو کہتے ہو کہ جھوٹ بولتے اور شرارت کرتے ہیں کیا تم نے ان کا دل چیر کر دیکھ لیا ہوتا ہے۔پھر یہ کیونکر ممکن ہے