خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 121

خطبات محمود جلد (5) ۱۲۱ اس وقت مسلمانوں میں اور بہت سی امراض کے علاوہ ایک یہ بھی مرض ہے کہ وہ قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف عمل کرتے ہیں۔قرآن تو اس لئے آیا تھا کہ مسلمانوں کو وسط میں چلائے۔چنانچہ مسلمانوں کو فرمایا۔اُمّةً وَسَطًا ( البقرہ: ۱۴۴ ) کہ ان کے تمام احکام اور اعمال درمیانی راستہ پر ہوتے ہیں۔مگر اس وقت مسلمانوں نے سب باتوں کی حدود کو اختیار کر لیا ہے اور وسط کو بالکل چھوڑ ہی دیا ہے احمدیوں میں بھی بہت سے تمدنی نقائص ابھی تک باقی ہیں۔اور وہ اسی لئے ہیں کہ ابتداء میں چونکہ ان کی تربیت غیر احمدیوں میں ہوئی ہے۔جس کا اثر ابھی تک کچھ نہ کچھ باقی ہے۔ان میں ایک نقص یہ ہے کہ جب دو شخصوں کا آپس میں اختلاف ہو تو ایک دوسرے کو کہتا ہے کہ تو جھوٹ بولتا ہے حالانکہ جھوٹ ایک بہت بڑی برائی ہے۔جو شخص دوسرے کو جھوٹا کہتا ہے۔اصل میں وہ خود جھوٹا ہوتا ہے۔کیونکہ وہ جھوٹ کو بے حقیقت سمجھتا ہے اگر بے حقیقت اور معمولی بات نہ سمجھے تو کبھی ایسی جرأت اور دلیری سے دوسرے کو جھوٹا نہ کہے۔کیونکہ جو شخص کسی جرم کو برا سمجھتا ہے وہ دوسرے پر اس کو تھوپنے سے بھی ڈرتا ہے۔ہمارے خلاف لاہوری مخالفوں نے ایسی ایسی باتیں لکھیں۔جو بالکل خلاف واقعہ تھیں۔لوگ کہتے کہ یہ جھوٹ لکھ رہے ہیں اور اس قسم کی باتوں کی کثرت کو دیکھ کر یہ کہنا بے جا بھی نہ تھا لیکن میں یہی کہتا رہا کہ ممکن ہے بھول سے لکھتے ہوں۔نسیان سے لکھ دیا ہو یا تعصب اور بغض کی وجہ سے ان کے دماغ میں بات ہی اسی شکل میں آئی ہو۔تو جو انسان کسی جرم کو بُرا سمجھتا ہے وہ دوسروں پر بڑھ کر الزام نہیں لگاتا۔اور جو الزام لگاتا ہے وہ اس جرم کو بے حقیقت سمجھتا ہے۔لیکن عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ جب دو آدمی آپس میں لڑیں گے تو ایک دوسرے کو جھوٹا کہہ دیں گے۔جب گواہوں سے پوچھا جائے گا تو جس کے خلاف ان کی گواہی ہوگی وہ انہیں جھوٹا قرار دے دیں گے۔حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہئیے کہ جھوٹ سے پہلے ایک اور بھی درجہ ہے اور وہ نسیان ہے۔ایسے شخص جو جھوٹ بولنے کے عادی ہوتے اور خواہ مخواہ جھوٹ بول دیتے ہیں وہ بہت کم ہوتے ہیں۔لیکن اس کے مقابلہ میں نسیان بہت زیادہ ہوتا ہے اور کوئی انسان ایسا نہیں ہے۔جس کو یہ مرض نہ ہو۔حتی کہ نبیوں کو بھی ہوتا ہے۔پس جب تمام انسانوں کو