خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 120

خطبات محمود جلد (5) ۱۲۰ ا نوبت پہنچتی ہے کہ وہ جوش اور غضب میں آکر ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو اور اپنی نسل کو تباہ کر لیتے ہیں حالانکہ اگر وہ صبر اور تحمل سے کام لیں تو کام چل جاتا ہے اور زیادتی کرنے والا خود شرمندہ اور نادم ہو جاتا ہے۔تمام جوشوں کا باعث محض غلط فہمی ہو ا کرتی ہے۔لیکن بہت لوگ ایسے ہیں جنہوں نے یہ معیار قائم کیا ہوا ہے کہ دنیا کی سب کمزوریاں تو ہمارے اندر ہیں۔باقی سب انسان مکمل ہونے چاہئیں۔اس لئے ایسے لوگ اگر خود کوئی عیب کرتے تو اسے بھول چوک قرار دیتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ انسان سے غلطی ہو ہی جاتی ہے۔لیکن وہی اگر دوسرا کرتا ہے تو کہتے ہیں یہ خباثت ہے۔شرارت ہے۔بے ایمانی ہے۔دشمنی ہے۔یہ بھول نہیں ہوسکتی۔اپنے متعلق تو کہا جائے گا کہ کیا بندر۔سور بھولا کرتے ہیں۔میں انسان تھا بھول گیا۔لیکن دوسرے کے متعلق بھولنا کبھی خیال میں بھی نہیں آتا۔حالانکہ اگر وہ اپنے نفس میں غور کرتا تو آسانی سے سمجھ سکتا تھا کہ اگر میں بھول سکتا ہوں تو وہ بھی بھول سکتا ہے۔اور اگر بھولنا ناممکن ہے اس لئے دوسرا خبیث اور شریر ہے تو میں بھی خبیث اور شریر ہوں۔اصل بات یہی ہے کہ کوئی انسان نہیں جو نسیان کی مرض کے نیچے نہ ہو۔حضرت آدم جو خدا تعالیٰ کا نائب اور خلیفہ تھا اس کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔فنسی (طہ ۱۱۶) بھول گیا۔اور بھولا بھی ایسے امر میں کہ جس کے متعلق اسے پہلے حکم دیا گیا تھا کہ یوں نہ کرنا تو آدم جس کو خدا نے تمام انسانوں کا باپ اور اپنا خلیفہ بنا کر دنیا میں بھیجا تھا وہ اگر بھول جاتا ہے تو اس کے بیٹے کیوں نہیں بھول سکتے اور وہ لوگ کیوں نہیں بھول سکتے جو خدا کے خلیفہ نہیں ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نسیان تھا۔آپ ایک دفعہ گھر سے باہر نکلے۔وہ آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا۔فرمایا مجھے لیلتہ القدر کا نظارہ دکھایا گیا تھا لیکن تم کولڑتا ہوا دیکھ کر بھول گیا ہوں۔لے تو جب سب سے بڑا انسان۔انسانوں سے بڑا کیا۔ملائکہ سے بڑا انسان بھی بھولتا تھا تو اور کون ہے جو نہ بھولے۔دنیا میں کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہے جس کو نسیان نہ ہو۔بڑے بڑے حافظہ والے بھی بھولتے آئے ہیں۔ل بخارى رفع معرفة ليلة القدر لقلاحي الناس -