خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 119

خطبات محمود جلد (5)۔١١٩ دکھائی دیتیں۔مگر مجموعی طور پر قوم کو تباہ کرنے والی ہوتی ہیں۔بعض قوموں میں جھوٹ کی عادت ہوتی ہے جو پھیلتے پھیلتے ان کی زندگی کے ہر ایک شعبہ پر اثر ڈالنا شروع کر دیتی ہے۔بعض میں غیبت۔چغلی۔عیب جوئی وغیرہ کی عادت ہوتی ہے۔جو بڑھتے بڑھتے بہت خطرناک نتائج پیدا کرتی ہے لیکن ان باتوں کو معمولی سمجھا جاتا ہے جو ایک بہت بڑی نادانی ہے۔دانا انسان کا کام ہے کہ کسی برائی کو چھوٹا نہ سمجھے کیونکہ اگر کسی ایک کو بھی چھوٹا قراردے گا تو سب کو چھوٹا ہی کہتا جائے گا۔لیکن یہ ایسی خرابیاں ہیں جو ملکوں کی بربادی اور قوموں کی تباہی کا موجب ہوا کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس قسم کی باتوں کی طرف متوجہ کرنے کے لئے ایک گر بتایا ہے یہ جو غلط فہمیاں ہوتیں اور ایک دوسرے پر حملے کئے جاتے ہیں یہ بھی بڑا تباہ کن فعل ہوتا ہے۔اور قوموں کو ہلاک کر دیتا ہے ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کرنا۔عیب جوئی میں لگے رہنا بظاہر انسان کو چھوٹی چھوٹی باتیں معلوم ہوتی ہیں مگر یہ ایسی باتیں ہیں کہ قوم کو تباہ کر دیتی ہیں۔ایک دفعہ صحابہ ایسے پاک گروہ میں سے بھی دو آدمیوں کی لڑائی سب کی تباہی کا موجب ہونے لگی تھی۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہو گئی۔آپ نے خاتمہ کر دیا۔دو شخص تھے ایک انصار میں سے اور ایک مہاجرین میں سے۔دونوں پانی بھرنے کے لئے گئے وہاں باتوں باتوں میں تیز کلامی ہوگئی ایک نے دوسرے کو لات ماری دوسرے نے اسے چپت رسید کر دی۔نتیجہ یہ ہوا کہ جنگ تک نوبت پہنچ گئی۔مہاجر نے مہاجرین کو مدد کے لئے آواز دی۔اور انصار نے انصار کو۔دونوں طرف سے تلواریں لے کر آگئے اور قریب تھا کہ مسلمان کافروں کے گلے کاٹنے کی بجائے جو ان کے سامنے پڑے تھے آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹ کر ڈھیر کر دیتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہو گیا آپ باہر نکل آئے اور فرمایا کیا تم پھر جاہل ہو گئے ہو۔آپ کے آنے سے وہ شرمندہ ہو گئے اور بات دب گئی۔! تو دیکھنے میں ایک بات چھوٹی سی معلوم ہوتی ہے مگر اس کے نتائج بڑے خطر ناک پیدا ہوتے ہیں لیکن بہت لوگ اس کا خیال نہیں رکھتے اس لئے ایسی باتیں کر لیتے ہیں مگر آخر کار یہانتک ا بخاری کتاب التفسیر سورۃ المنافقین۔