خطبات محمود (جلد 5) — Page 118
خطبات محمود جلد (5) ۱۱۸ میں آگ لگ گئی۔دیکھو ایک آدمی کا قتل تھا۔گو وہ آدمی بہت بڑا تھا ایک سلطنت کا ولیعہد تھا۔لیکن پھر بھی ایسا نہیں تھا کہ تمام دنیا میں اس کے لئے آگ لگا دی جاتی۔اور کل دنیا پر کشت وخون کے دریا بہا دیئے جاتے۔ایسے انسان جن کا قتل کل دنیا کا قتل ہو سکتا تھا۔وہ دو ہی گزرے ہیں ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو سارے جہان کے لئے مبعوث کئے گئے تھے اور ایک حضرت مسیح موعود جو ان کی غلامی میں ساری دنیا کی طرف بھیجے گئے تھے ان دو کے سوا اور کوئی انسان نہ نبیوں سے نہ ولیوں سے نہ مجددوں سے ایسا نہیں گزرا۔حضرت موسی۔حضرت داؤد - حضرت سلیمان۔اگر قتل کئے جاتے۔تو یہ بنی اسرائیل کا قتل تھا۔حضرت مسیح ناصری کا قتل بھی بنی اسرائیل کا ہی قتل تھا صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ایک ایسے وجود ہوئے تھے کہ آپ کا قتل سارے جہان کا قتل تھا۔پھر آپ کا جو قائم مقام آیا۔اس کا قتل سارے جہان کا قتل ہو سکتا تھا۔باقی سب نبیوں میں سے کوئی ایسا نہیں ہوا تو کوئی بادشاہ یا بادشاہ بننے والا کہاں ایسا ہو سکتا ہے مگر واقعات تھے جنہوں نے مجبور کر دیا اور وہی صورت رونما ہوئی ہے جو آج کل ہم دیکھ رہے ہیں شہزادہ کو قتل کرنے والوں نے سمجھ لیا ہوگا کہ خواہ ہمیں کتنا ہی نقصان اٹھانا پڑے تا ہم اس کا نفع اس نقصان سے زیادہ ہوگا۔ان کے ذہن میں یہ خیال کبھی بھی نہیں آیا ہو گا کہ یہ صورت ہو جائے گی۔لیکن دیکھ لو کہاں سے کہاں تک نوبت پہنچ گئی۔وہ سلطنتیں جو آجکل میدانِ جنگ میں نکلی ہوئی ہیں وہ بھی یہ خیال نہ کرتی تھیں کہ واقعات یہ صورت اختیار کر لیں گے۔چنانچہ جنگ شروع ہونے سے قبل روس کے وزیر نے انگلینڈ کے وزیر اعظم کو لکھا کہ آسٹریا کے سرویہ پر دباؤ ڈالنے کی وجہ سے ہم مجبور ہیں کہ اسے مدد دیں لیکن یہ مدد سیاسی رنگ میں ہوگی اور اسی سے کام چل جائے گا کیونکہ واقعات کی صورت ایسی نہیں ہے کہ لڑائی تک نوبت پہنچے۔لیکن خدا کی مصلحت نے نہ چاہا کہ ایسا ہو۔اس لئے لڑائی شروع ہوگئی۔یہ تو میں نے اس قسم کے واقعہ کی مثال دی ہے جو ابتداء میں کوئی بڑا نہیں معلوم دیتا تھا۔مگر تمدنی امور ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کو انسان پہلے سے ہی جانتا ہے کہ نقصان دہ اور مضرت رساں ہیں مگر پھر بھی ان سے باز نہیں آتا۔یہ باتیں فردا فردا کچھ ایسی بڑی نہیں