خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 105

۱۰۵ 15 خطبات محمود جلد (5) بدظنی ہلاکت کا باعث ہے (فرموده ۱۲ رمئی ۱۹۱۶ء) تشهد وتعوذ اور سورہ فاتحہ پڑھ کر حضور نے فرمایا:- بہت سے لوگ دنیا میں اس قسم کے پائے جاتے ہیں کہ ان کی طبیعت شکر گزاری اور احسان کی شناخت کی طرف مائل نہیں ہوتی۔جس قدر بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی مہربانیاں ہوں یا بندوں کی طرف سے احسان ہوں ان کی تسلی نہیں ہوتی وہ کبھی بھی اپنی حالت پر مطمئن نہیں رہتے۔علاوہ اس کے اس قسم کی طبیعت کا انسان ناشکری اور احسان فراموشی کا مرتکب ہوتا ہے۔ایسے انسان کو کبھی اپنے نفس کے اندر سکھ معلوم نہیں ہوتا۔جلن ہی لگی رہتی ہے۔اور ہر وقت اس کے لئے تکلیف اور دکھ کے دروازے ہی کھلے رہتے ہیں کیسے ہی اعلیٰ درجہ پر پہنچ جائے وہ دکھ میں ہی ہوتا ہے اور یہ عذاب اس کی اپنی جان پر ہی ہوتا ہے اگر واقعہ میں بھی کوئی اسے دیکھ دینے والا نہیں ہے اگر اس کے حقوق کی حق تلفی کرنے والی کوئی جماعت نہیں ہے تو بھی وہ آرام میں نہیں ہے اور خواہ مخواہ دکھ میں ہے۔اس قسم کی طبائع کبھی خوش نہیں ہوسکتیں۔بہت مالدار جن کے پاس کروڑوں روپے ہیں۔ایسے نکلیں گے کہ وہ بادشاہوں کی تنخواہیں دے سکتے لیکن ان میں سے بہت ایسے ہوں گے کہ اگر ان سے پوچھو کہ تم مطمئن ہو تو وہ کہیں گے کہ ابھی ہمارا فلاں کام رُکا پڑا ہے۔فلانہ ٹھیکہ پورا ہو جائے تو مطمئن ہو جائیں وہ تمام مال اور دولت جو بنکوں میں جمع ہے اس کے کسی مصرف کا نہیں بلکہ وہ دکھ میں ہے لیکن یہ دُکھ اس کا خود پیدا کردہ ہے۔اللہ تعالیٰ کا احسان ہو ا۔مال کے لحاظ سے اوروں پر فضیلت ہے لیکن اس کا دل ابھی اور کی خواہش میں ہے۔غرض بہت سے لوگ جنت میں ہو کر اپنے آپ کو دوزخ میں ڈالتے ہیں۔آرام میں ہو کر مصیبت میں پڑے ہوئے ہیں سکھوں میں ہو کر دکھوں میں ہیں۔میرا اس سے یہ مطلب نہیں کہ ہر انسان جس جگہ پر ہے اس سے آگے ترقی نہ کرے۔اسلام تو کہتا ہے ہر وقت آگے بڑھو۔میرا مطلب یہ ہے کہ جو ترقی بھی وہ کرتے ہیں اس میں انہیں سکھ نہیں