خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 101

خطبات محمود جلد (5) 1+1 اور انہیں گھر کے گرد چن کر گھر کو آگ لگا دوں۔آپ کیسے رحیم۔کریم۔نرم مزاج اور شفقت رکھنے والے انسان تھے لیکن جماعت کے چھوڑنے پر اور پھر صبح اور عشاء کی جماعت چھوڑنے پر کہ ایک میں سونے کے وقت ہونے کی وجہ سے نیند غلبہ کئے ہوئے ہوتی ہے اور دوسری میں بھی نیند کا غلبہ ہوتا ہے اور انسان اس حالت میں مجبور ہوتا ہے کہ اس سے دیری ہو جاتی ہے یا جماعت جاتی رہتی ہے یہ سزا تجویز فرمائی ہے لوگ تو کہتے ہیں کہ یہ ان نمازوں ( صبح وعشاء) کے لئے تاکید ہے لیکن میرے خیال میں تو آپ نے گویا فرمایا ہے کہ ان نمازوں کے جماعت سے نہ پڑھنے کے لئے اس قدر عذاب دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔حالانکہ انسان ان میں مجبور ہوتا ہے تو ان نمازوں کے متعلق کس قدر ضروری اور سخت یہ حکم ہوا۔جن میں یہ مجبوری نہیں ہوتی اور یہ تنگیاں نہیں پائی جاتیں۔اس لئے ان میں حاضر نہ ہونے والا انسان کس قدر سزا کا مستوجب ہے۔یہ نہیں فرما یا گھر کو آگ لگا دوں بلکہ فرمایا۔آدمیوں سمیت جلا دوں۔یہ کلام ایسے انسان کے منہ سے نکلنا جو کرم میں۔رحم میں۔شفقت اور محبت میں سب سے بڑھا ہوا تھا۔یہ ارشاد بتاتا ہے کہ جماعت سے نماز سخت ضروری ہے اور کسی بات کے متعلق آپ نے یہ حکم نہیں فرمایا۔صرف نماز کے واسطے ہی یہ حکم دیا۔لیکن باوجود اس کے بہت لوگ ہیں جو گھروں میں ہی نماز پڑھ لیتے ہیں۔میں نے پیچھے کبھی بیان کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر کسی گاؤں میں ایک ہی احمدی ہو اور غیر احمدی اسے مسجد میں نماز نہ پڑھنے دیتے ہوں۔اردگرد نزدیک کوئی اور احمدی نہ ہو تو وہ احمدی اپنے بیوی بچوں کو جمع کر کے نماز اپنے گھر میں باجماعت پڑھ لیا کرے۔تا کہ عادت قائم رہے کیونکہ جب عادت نہ ہو۔تو انسان موقع ملنے کے باوجود بھی پھر اس سے رہ جاتا ہے۔بعض لوگوں نے اس کا نتیجہ غلط نکال لیا۔اور سمجھا کہ جماعت میں جانے کی ضرورت ہی نہیں۔گھر کے بال بچوں اور بیوی کو کھڑا کیا اور گھر میں ہی نماز پڑھ لی۔ابھی کل خط آیا ہے جس میں ایک شخص نے لکھا تھا کہ میں نے جب لوگوں کو مسجد میں نماز کے لئے تاکید کی تو لوگوں نے کہا کہ تمہیں وہ تقریر یا دنہیں رہی جس میں حضرت نے ل بخاری کتاب الاذان باب وجوب صلوۃ الجماعة -