خطبات محمود (جلد 5) — Page 1
خطبات محمود جلد (5) 1 اسراف سے بچو فرمودہ ۷۔جنوری ۱۹۱۶ء) تشهد وتعوذ وسورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کے بعد فرمایا: تبرك الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيْهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُّبِيرًا وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةٌ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يَذَّكَرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًان وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُونَ قَالُوا سَلَمًا وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا دَ إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذلِكَ قَوَاما ! یہ چند آیات جو میں نے اس وقت پڑھی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے عباد الرحمن کی تعریف بیان فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ وہ یوں کیا کرتے ہیں۔یوں تو بہت سے لوگ ہیں جو بڑے شوق سے اپنے لڑکے کا نام عبدالرحمن رکھتے ہیں اور بہت ہیں کہ جب ان سے پوچھا جائے کہ کون ہو تو بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ”ہم اللہ کے بندے ہیں اور لوگوں کے دعوی کرنے کو چھوڑ دو واقعہ میں بھی سب لوگ خدا ہی کے بندے ہیں اور جتنی بھی چیزیں دنیا کی ہیں خواہ وہ انسان ہیں یا حیوان - چرند یا پرند۔سب خدا ہی کے بندے ہیں کیونکہ وہ کونسی چیز ہے جو خدا کے سوا کسی اور نے پیدا کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہی سب کو پیدا کیا ہے۔پس اس لحاظ سے سب خدا ہی کے بندے ہیں پھر اس لحاظ سے کہ خدا ہی سب کو قائم رکھنے والا ہے اور اسی کے اختیار میں ہر ایک جاندار اور بے جان کا قائم رکھنا ہے۔اسی کے بندے ہیں۔پھرا له الفرقان ۶۲ تا ۶۸