خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 89

خطبات محمود جلد (5) ۸۹ طور پر اس کا ثبوت دینے والوں کے برابر نہیں ہو سکتے۔اس کی گواہی زمین و آسمان اور سب اشیاء دے رہی ہیں کہ کبھی ایسا نہیں ہو سکتا اور اگر ایسا ہو جائے تو خدا پر الزام آتا ہے۔کہ کیا اس نے اتنا بڑا کارخانہ اور تمام ساز و سامان گھوڑے اور گدھے کی طرح کھا پی کر گزر جانے والے انسان کی خاطر پیدا کیا ہے اس قسم کا کام تو معمولی عقل کا انسان بھی نہیں کرتا چہ جائیکہ خدا ایسا کرے۔کہ انسان کے لئے یہ سب کچھ تو پیدا کر دے مگر اس کی غرض کچھ نہ ہو۔کیا کھانے پینے کے لحاظ سے گھوڑے اور گدھے وغیرہ حیوانات انسان کے برابر نہیں ہیں ضرور ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان کے لئے تمام دنیا کی اشیاء مستر نہیں کی گئیں۔اور صرف انسان کے لئے کی ہیں۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ انسان کی پیدائش کی کوئی اور بہت بڑی غرض ہے۔غرض دنیا کی ہر ایک چیز انسان کو ہوشیار کر رہی ہے خواہ سورج یا چاند ہو یا ستارے ہوں خواہ زمین کے اوپر کے نظارے ہوں خواہ اس کے نفس کے اندر کی طاقتیں ہوں۔تمام جانور حتی کہ ایک چڑیا اور طوطا ایک کتا ایک بلی ایک مینا اس کے لئے نصیحت اور سبق ہے۔یہ ہر چیز ا سے کہ رہی ہے کہ ہم کھانے پینے کے لحاظ سے تمہارے برابر ہیں لیکن تجھے جو ہم پر حکومت دی گئی ہے اور ہمیں تیرے لئے مستقر کیا گیا ہے تو اس میں کوئی بات ضرور ہے اور وہ یہی کہتا تجھے بتا یا جائے کہ ایک دن تیرے تمام اعمال کا محاسبہ ہوگا اور تو خدا تعالیٰ کے حضور اپنے افعال کی جوابدہی کے لئے کھڑا کیا جائے گا لیکن اس واعظ کے لئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔انسان اپنے گھر میں بستر پر آنکھیں بند کر کے اپنے نفس پر غور کرے تو وہی اس کے لئے واعظ ہوگا اور اسے پتہ لگ جائے گا کہ دنیا میں میرا کیا درجہ ہے۔اور دوسری مخلوق کا کیا۔مجھ سے خدا کا کیا سلوک ہوگا اور دوسری مخلوق سے کیا۔اس آیت میں خدا تعالیٰ نے اسی طرف انسان کو متوجہ کیا ہے۔اس لئے اس سے وہ نصیحت حاصل کر سکتا ہے۔اس کے علاوہ ایک بات کا بھی اس سے پتہ لگتا ہے۔اور وہ یہ کہ بہت لوگ سوال کرتے ہیں کہ ہمیں یہ کیونکر معلوم ہو کہ ہم متقی ہیں یا فاجر اور خدا ہم سے خوش ہے یا نا خوش۔اس آیت سے یہ سوال بھی حل ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ