خطبات محمود (جلد 5) — Page 84
خطبات محمود جلد (5) ۸۴ تین ہزار چار ہزار سال پہلے بھی ایسا ہی بناتی تھی۔مگر انسان کی حالت کبھی ایک حالت پر نہیں رہی۔بلکہ ہر صدی میں بدلتی رہی ہے۔کوئی زمانہ ایسا تھا کہ انسان بالکل ننگا رہتا تھا۔پھر وہ زمانہ آیا کہ درختوں چھالوں اور پٹوں سے اپنا جسم ڈھانکنے لگا۔پھر جانوروں کی کھالوں کو پہنے لگا۔پھر کوئی زمانہ ایسا تھا کہ درختوں کی باریک شاخوں سے پتوں میں موریاں نکالکر گھاس کے ریشے ان میں ڈال کر اپنے لئے کپڑے سینے لگا۔پھر لو ہا۔روئی دریافت ہوئی اور کپڑے بنے اور سیئے جانے لگے۔اس سے ترقی کرتے کرتے آج انسان اس حالت کو پہنچا ہے کہ اتنی قسم کے کپڑے تیار ہو گئے کہ کوئی گن بھی نہیں سکتا اسی طرح ایک وقت تھا جبکہ انسان کچی غذا ئیں کھاتا تھا۔پھر سورج کی گرمی سے بھون کر کھانے لگا۔پھر آگ دریافت ہوئی تو اس میں ڈال کر پکانے لگا اس سے ترقی کرتے کرتے آج اس حالت کو پہنچا کہ ہزاروں قسم کے نفیس سے نفیس کھانے تیار کرنے لگا۔یہی حال پینے کی چیزوں کا ہے اور یہی سوسائٹی کے تعلقات کا۔غرضیکہ ہر ایک وہ کام جس کا انسان سے تعلق ہے وہ جس حالت میں آج سے سو سال پہلے تھا آج اس سے بڑھ کر حالت میں ہے۔اور آج سے ایک سوسال بعد اور بڑھ کر ہوگا۔یہ تو نسلِ انسانی کا تغیر و تبدل ہے اسی طرح ہر انسان میں بھی تغیر ہوتا ہے۔ایک وہ وقت ہوتا ہے جبکہ انسان بات کرنے کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔لیکن ایک وقت آتا ہے کہ خوب بول سکتا ہے۔پھر ایک وقت آتا ہے جبکہ وہ کچھ پڑھ نہیں سکتا۔لیکن ایک وقت آتا ہے کہ وہ بڑا عالم اور فاضل ہو جاتا ہے تو جس طرح نسل انسانی مجموعی حالت میں ترقی کرتی ہے اسی طرح ہر ایک انسان بھی ترقی کرتا ہے اور ایک ادنیٰ حالت سے لے کر عظیم الشان درجہ تک پہنچ جاتا ہے۔پیدا ہونے کے وقت تمام بچوں کی ایک ہی حالت ہوتی ہے ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے:۔کہ اے انسان تو جس وقت پیدا ہوا تھا تو رورہا تھا اور لوگ تجھ پر ہنس رہے تھے (کسی پر ہنسنا اسی کی تحقیر کرنے کے معنوں میں بھی آتا ہے ) اب تو ان سے بدلہ لے اور وہ اس طرح کہ ایسے اچھے اعمال کر اور لوگوں کو اتنا فائدہ پہنچا کہ جب تو مرے تو لوگ روئیں اور تو ہنسے اور خوش ہو کہ میں خدا کے پاس جارہا ہوں۔لے تو سب بچے روتے ہوئے ننگ دھڑنگ آموجود ہوتے ہیں۔آنحضرت کے معانی الادب ۲ بحوالہ دروس الادب ص ۹۰