خطبات محمود (جلد 5) — Page 55
خطبات محمود جلد (5) میں سے پچھیں یا تیں ایسے نظر آئیں گے کہ انہوں نے ایک سے زیادہ شادیاں کیں اس میں کیا حکمت ہے کہ خدا تعالیٰ نے جن پاک بزرگوں کو اپنی خلعتِ نبوت سے سرفراز فرمایا ان میں سے اکثر کو ایک سے زیادہ شادی کے لئے ہی ضرورت پیش آئی۔ادھر قرآن شریف بھی دو دو چار چار کا حکم دیتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کوئی خاص حکمت پوشیدہ ہے۔باوجود اس کے کہ نسل موجود ہے اور پھر شادیاں کی جاتی ہیں۔اگر کوئی شخص کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اولاد کے لئے شادیاں کرتے تھے تو ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم پیدا ہوئے ہیں اور زندہ ہیں۔پھر ایسے وقت میں آپ نے اور نکاح کیا پھر اور اعتراض ہے اور کو تو چار چار کی اجازت نبی کریم کونو کی اجازت کیوں دی گئی۔بہت لوگوں کا خیال ہے کہ نو تک عام اجازت ہے لیکن مسیح موعود نے چار کا ہی فتویٰ دیا ہے۔میں نے بار ہا آپ سے چار کے متعلق ہی سنا ہے آپ چار ہی فرما یا کرتے تھے۔حضرت مولوی صاحب (نورالدین ) کا ایک وقت میں نو کے جواز کا خیال تھا۔چنانچہ انہوں نے ایک دفعہ ایک روایت بھجوا دی۔کہ فلاں بزرگ کی چار سے زیادہ بیویاں تھیں۔میر محمد الحق صاحب وہ روایت لئے ہوئے میرے پاس آئے اور کہنے لگے آج اس مسئلہ پر خوب بحث ہوگی۔مولوی صاحب نے یہ ایک حدیث حضرت صاحب کو دکھانے کے لئے بھجوائی ہے۔پس وہ اسے حضرت صاحب کو دکھانے کے لئے لے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد جب واپس آئے تو سر نیچے ڈالا ہوا تھا۔میں نے پوچھا کیا ہوا۔کہنے لگے کہ حضرت صاحب کے سامنے جب وہ عبارت پیش کی تو آپ نے فرمایا یہاں کہاں لکھا ہے کہ نو یبیاں ایک وقت میں تھیں۔حضرت مسیح موعود چار کی نسبت ہی فرمایا کرتے تھے۔تو ہم بھی یہی کہیں گے کہ ادھر چار کی اجازت ادھر نو کی اس میں کیا حکمت ہے۔اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اولاد کی خواہش تھی۔تو آپ کو چار بیبیاں کرنی چاہئے تھیں۔لیکن آپ نے نوکیں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ آپ خواہ میں بیبیاں بھی کر لیں تو بھی آپ کے نرینہ اولاد نہ ہوگی تو پھر کس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور لوگوں سے زیادہ نو کی اجازت دی۔معلوم ہوا کہ کوئی اور حکمت ہے۔چونکہ اسلام ہدایت لے کر آیا تھا۔اس لئے تبلیغ فرض اسلام تھا۔