خطبات محمود (جلد 5) — Page 617
خطبات محمود جلد (5) دے دی جائے گی۔فی الحال جن کی درخواستیں آچکی ہیں۔ان کو فرد فردا بتانے کی بجائے اس وقت اطلاع دیتا ہوں کہ ان کے نام میرے پاس محفوظ ہیں۔میں قواعد بنا کر ان کو اطلاع دوں گا۔اگر وہ ان قواعد کو منظور کرلیں گے تو پھر انکے نام مشتہر کر دیئے جائیں گے۔اس کے ماسوا میں اپنے یہاں کے دوستوں کو ایک آنیوالے فرض کی طرف بھی متوجہ کرتا ہوں۔درس میں کئی دن سے مہمان نوازی کا مضمون شروع ہے۔یہ آیات جو میں نے پڑھی ہیں ان میں مہمان نوازی کا ہی ذکر ہے۔حضرت لوط جس بستی میں رہتے تھے وہ ساری کی ساری مہمان نوازی کے خلاف اور انکی دشمن تھی اور لوگ انکومہمان نوازی اور مسافروں کو ٹھہرانے سے منع کرتے تھے مگر باوجود اس تنگی اور مشکل کے جو ان پر تھی پھر بھی وہ مسافروں کو لے آتے تھے اور انکی مدارت کرتے تھے۔دیکھئے وہ اپنے نفس کے لئے نہیں بلکہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے بہت سی دشتوں اور تکلیفوں کو برداشت کرتے تھے۔آپ ایک دن حسب معمول باہر گئے۔اور کچھ مسافروں کو دیکھ کر انہیں کہا۔چلو میرے ہاں ٹھہر و۔انہوں نے جانے سے انکار کر دیا۔لیکن آپ ان کو لے جانے پر اصرار کرتے رہے۔جب اس پر بھی انہوں نے نہ مانا تو حضرت لوط نے کہا۔آج میرے لئے کیسا مصیبت کا دن ہے۔گویا مہمانوں کا ان کے ہاں نہ جانا انکے لئے مصیبت بن گئی۔آخر آپ ان لوگوں کو اپنے گھر لے گئے جب انکی قوم کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے آ کر کہا کہ لوط ہم نے تجھے منع نہیں کیا ہوا کہ لوگوں کو یہاں نہ لایا کرو۔اس پر حضرت لوط ان لوگوں کے رو بروا پیل کرتے ہیں کہ تم مہمانوں کو ذلیل نہ کرو۔اس میں میری ذلّت ہے۔دیکھو باوجود حضرت لوط اپنی اس بیچارگی کے قوم سے کہتے ہیں کہ تم اگر میرے مہمانوں کو ذلیل کرو گے تو اس میں میری ذلت ہوگی۔یہ نہایت درجہ کے اخلاق کی بات ہے جو انبیا علیہم السلام کی سنت ہے۔پس میں آپ لوگوں کو جو ایک نبی اور رسول کے ماننے والے ہو تاکید کرتا ہوں کہ آپ کے ہاں مہمان آئیں گے۔آپ لوگ خوشی کے ساتھ انکی خدمت کریں آپ لوگ منتظمین کے پاس جائیں اور ان سے کہیں کہ ہم جس کام کے قابل ہوں ہمیں بتایا جائے تا کہ ہم کریں۔اگر تم پر کسی مہمان کی طرف سے کوئی سختی بھی ہو تو اسکو بھی برداشت