خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 548

خطبات محمود جلد (5) ۵۴۷ دفعہ بعض خطرناک موقعوں پر اس پر حملہ کیا۔مگر خدا نے اسکی حفاظت کی اور ان کے شر سے محفوظ رکھا ہے۔غرض اس فتنہ اس شقاق کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک گھر بھی ایسانہ رہا جو ملکر بیٹھ سکے۔کوئی صوفی مسلمانوں کو جمع نہ کر سکا۔کوئی عالم جمع نہ کر سکا۔جس قدر انہوں نے مسلمانوں کے جمع کرنے کی کوشش کی اسی قدر خلاف ثابت ہوئی کسی نے کہا ہے۔مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی جتنی کوشش کی گئی اس قدر نفاق بڑھا اور فتنہ نے ترقی کی۔آج مسلمانوں سے بڑھ کر کوئی ذلیل قوم نہیں۔یا وہ وقت تھا کہ مسلمانوں سے بڑھ کر کوئی معز زقوم نہ تھی۔سو یہ مسلمانوں کا حال ہوا کہ ان کا کوئی وقار قائم نہ رہا۔کس طرح نہ رہا۔اسی طرح کہ ان کو اتفاق واتحاد کے باعث یہ سب عزت ملی لیکن جب معمولی معمولی باتوں پر کہیں عہدہ کیوجہ سے کہیں کسی اور وجہ سے آپس میں جنگیں چھڑ گئیں بنو عباس کی بنوامیہ سے نہیں بنتی تھی۔بنی فاطمہ کا بنوعباس سے نبھاؤ نہیں ہوتا تھا۔آپس میں لشکر کشیاں ہو کر اسلام کے لئے کتنا خطرناک نتیجہ برآمد ہوا وحدت گئی رعب گیا زور ٹوٹ گیا۔یہ اتفاق و اتحاد خدا کا فضل ہوتا ہے۔مجد دین وصوفیا مولویوں وغیرہ نے ہزار کوشش کی مگر وہ بات پیدا نہ کر سکے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پاک نے مسلمانوں میں پیدا کر دی تھی۔تیرہ سو برس میں یہ بات حاصل نہیں ہوئی۔مگر اب خدا ہی کے فضل سے ایک نبی کی معرفت ایک جماعت قائم ہوئی ہے۔پہلوں کے تلخ تجربہ سے فائدہ اٹھاؤ تمہارے ہاں فتنہ بھی پیدا ہوں گے شریر بھی ہوں گے فتنہ پیدا کریں گے۔ان سے بچنے کیلئے ابھی سے کوشش کرو اور اگر ابھی سے ہر قسم کے فتنوں اور فسادوں سے بچنے کی کوشش نہیں کرو گے۔اور ان باتوں سے پر ہیز نہیں کرو گے جو ابتداء اگر چہ : کتاب الرو تین جلد اول ص ۲۵۸ بحواله تاریخ اسلام از شاہ معین الدین ندوی۔