خطبات محمود (جلد 5) — Page 538
خطبات محمود جلد (5) ۵۳۷ کے مقابلہ کے لئے جس جد و جہد کی ضرورت ہے اس سے اب تک کام نہیں لیا گیا۔یہ سچ ہے کہ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔مگر کوئی ہونہار بروا دیکھ کر پانی دینا چھوڑ دے کہ بس اب کیا کرنا ہے تو یہ اس کی نادانی ہے۔حضرت مسیح موعود نے ایک جگہ پر لکھا ہے کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ جس طرح خدا ایک ہے۔اسی طرح زمین پر بھی ایک ہی دین ہوگا۔مگر غور کرو کہ دنیا کے مقابلہ میں ہماری کیا تعداد ہے۔پنجاب میں سینکڑوں گاؤں ایسے ہیں کہ وہاں کوئی احمدی نہیں۔ہندوستان میں بہت کثرت سے گاؤں ہیں جہاں احمدیت کا کوئی نام تک نہیں جانتا یورپ تو قریبا سارا ہی خالی ہے۔ہماری دوسروں کے مقابلہ میں وہ جو آٹے میں نمک کی مثال بیان کیا کرتے ہیں وہ بھی نہیں ہے۔تو ابھی ہماری مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ چھوٹا پودا جس کو ذراسی طاقت سے بھی اکھاڑ کر باہر پھینک دیا جا سکتا ہے۔لیکن جب وہ درخت بڑھ جاتا ہے تو پھر بڑی بڑی طاقتیں بھی اس کو اسکی جگہ سے جنبش نہیں دے سکتیں۔اس لئے اس وقت بہت کوشش کی ضرورت ہے۔پس وہ اقرار جو ہم نے حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر کئے۔ان کے پورا کرنے کا اب وقت ہے۔ہم نے وعدہ کیا ہے کہ جس چیز کی بھی ضرورت ہوگی ہم اسلام کی راہ میں صرف کریں گے اگر مال کی ضرورت ہوگی تو مال اگر جان مطلوب ہوگی تو اس کے خرچ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔اب جان کا وقت نہیں۔ہاں مال کی ضرورت ہے۔سو اسکے متعلق یہ مت خیال کرو کہ اگر خدا کی راہ میں صرف کرو گے تو وہ ضائع ہو جائے گا۔نہیں ضائع نہیں ہوگا۔بلکہ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مثل الذين ينفقون في سبيل الله كمثل حبة انبتت سبع سنابل فى كل سنبلة مائة حبة ط کہ تم جو اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے وہ ضائع نہیں جائے گا۔بلکہ بہت بڑھایا جائے گا۔پس اس کام کی اہمیت اور عظمت کو سمجھو اور خدا کی راہ میں قربانی کرو۔اگر تم پوری طاقت اور کوشش سے اس راہ میں قدم نہیں بڑھاؤ گے تو جو کچھ اب تک کر چکے ہو وہ بھی ضائع ہو جائے گا۔اب یہ درخت زمین سے کسی قدر بلند ہو گیا ہے اگر تم نے اس سے بے اعتنائی کی تو ضائع ہو جائے گا۔پس دوسروں کی نسبت ہماری حالت خطرناک ہے۔ہمارے لئے بہت احتیاط کی