خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 44

خطبات محمود جلد (5) یہ وہ ذریعہ ہے جو خدا کے قرب کو حاصل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت فرما یا۔اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے بلکہ جو بھی خدا کا نبی ہے اسی سے تعلق رکھتا ہے اور جو نبی آتا ہے اس کا فیصلہ اسی کے مطابق ان لوگوں کو ماننا ضروری ہے جو اس کو قبول کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے کئی جگہ لکھا ہے کہ جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھے سچا سمجھتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ میرے فیصلوں اور حکموں کو بھی مانے۔ورنہ وہ میری بیعت میں داخل نہیں ہے (مفہوم) پس یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی خاص نہیں ہے بلکہ ہر ایک رسول سے متعلق ہے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ الله (النساء : ۶۵) کہ کوئی رسول نہیں بھیجا جاتا مگر اس لئے کہ اس زمانہ کے لوگ اس کی اطاعت کریں۔اور اگر کوئی اس کی اطاعت نہیں کرتے تو وہ مومن نہیں ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے فرما دیا۔کہ نبی کی طرف سے جو فیصلہ ہو اس کو خوشی سے قبول کرنا چاہیئے اور اگر کوئی اسے خوشی سے قبول نہیں کرتا تو وہ مومن نہیں ہے۔بظاہر یہ تو بڑی مشکل بات معلوم ہوتی ہوگی کہ کس طرح ایک انسان کے ہر ایک فیصلہ کو اس طرح قبول کیا جائے کہ اس کے متعلق دل میں بھی ذرا تنگی محسوس نہ ہو اور کسی قسم کی ناخوشی نہ ہو۔مگر میرے نزدیک یہ ایک بہت بڑی رحمت ہے۔دنیا میں لوگ بڑے بڑے لوگوں کے فیصلے مانتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہمارا فیصلہ کوئی بڑا عقل مند اور دانا کرے۔خدا تعالیٰ نے یہ فرما کر بتا دیا۔کہ اے لوگو! ہم تمہارے لئے اس مصیبت اور تکلیف کو باقی نہیں چھوڑتے کہ تم اپنے فیصلوں کے لئے انسانوں کو ڈھونڈتے پھرو۔اور پھر بھی حسب دلخواہ تمہیں نہ ملیں۔ہم خود ایک انسان کو مقرر کر دیتے ہیں جو تمہارے فیصلے کر دے گا۔پس خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی ایسے انسان کا مقرر ہونا کوئی تکلیف دینا نہیں بلکہ رحمت برسانا ہے اور غلامی کرنا نہیں بلکہ حریت پیدا کرنا ہے پابندی کرا نا نہیں بلکہ آزادی دلانا ہے۔کیونکہ ایک نبی کے ماننے والے کو یہ ضرورت نہیں رہتی کہ وہ کسی بات کے متعلق فیصلہ کرانے کے لئے کسی منصف کی تلاش میں نکلے بلکہ وہ ہر ایک بات کا فیصلہ خواہ وہ اعمال سے متعلق ہو۔یا