خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 515

خطبات محمود جلد (5) ۵۱۴ امور جو ابتداء چھوٹے ہوتے ہیں حقیقت میں بہت بڑے نتائج پیدا کر نیوالے ہوتے ہیں۔اور بہت سے بڑے معلوم ہوتے ہیں مگر انکے نتائج بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے بعد بہت سے اموال جو حضور کے پاس پہلی غنیمتوں میں سے بھی جمع تھے مکہ کے نومسلموں کو دلائے۔اس پر انصار میں سے بعض نوجوانوں نے کسی مجلس میں کہدیا کہ اب تک خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے مگر مال ان لوگوں کو دے دیا گیا جوحق دار نہیں تھے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ انصار میں سے بعض نے اس طرح کہا ہے تو حضور نے انصار کو بلوایا اور پوچھا کہ اے انصار کیا تم نے اس طرح کہا ہے۔وہ لوگ منافقت پسند نہ کرتے تھے۔جن کی مجلس میں یہ باتیں ہوئی تھیں انہوں نے کہدیا کہ حضور بعض نادان نو جوانوں نے بیشک کہہ دیا ہے لیکن ہمیں کسی قسم کا اعتراض نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انصار ! تم میری نسبت کہہ سکتے ہو کہ یہ اکیلا آیا تھا ہم نے اس کا ساتھ دیا۔اسے گھر والوں نے نکال دیا تھا ہم نے اس کو جگہ دی۔اس پر دشمنوں نے حملے کئے ہم نے اپنی تلواروں سے اس کی مدد کی۔اسلام غریب تھا ہم نے اپنے مالوں سے اسکی مدد کی لیکن جب وقت آیا تو ہماری قدر کرنے کی بجائے غیروں کو مال دیئے گئے پھر تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ خدا کے رسول کو ہم نے اس وقت قبول کیا جبکہ اس کے شہر والوں نے اس کو نکال دیا تھا۔مگر آج مال ان کو دیدیا گیا ہے۔مگر اے انصار کیا تم اس بات کی قدر نہیں کرتے کہ مہاجرین بھیڑ اور بکریاں لے کر اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں اور تم خدا کے رسول کو گھر لے آئے ہو۔انصار نے پھر عرض کیا۔حضور" بعض نو جوانوں نے نادانی سے یہ کہدیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اچھا جو ہونا تھا ہو گیا۔تم میں سے بعض نے دنیا کی خواہش کی جس کا نتیجہ تمہیں بھگتنا پڑیگا اب تم اپنا حصہ کوثر پر مجھ سے مانگنا لے۔اس پر غور کرو کہ مدینہ میں جو چند مہاجرین تھے ان کی نسل تو دنیا میں کس کثرت سے موجود ہے۔مگر انصار جو کہ وہیں کے باشندہ تھے۔انکی نسل دنیا سے ایسی معدوم ہوئی کہ تمام دنیا میں بہت ہی تھوڑے لوگ ہیں جو اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔پس انصار نے ایک معمولی سی بات کہی تھی مگر دیکھو اس کا نتیجہ کیسا عبرتناک نکلا۔تو کسی بات کو معمولی مت سمجھو بلکہ اس کے انجام کی طرف غور کرو۔: بخاری کتاب مناقب الانصار